لاہور غیر ملکی خاتون کیس میں اہم پیش رفت، دوست سمیت 3 ملزمان گرفتار
لاہور: غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں تفتیش کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے مسکان، محسن اور علی زین کو گرفتار کرلیا جبکہ مرکزی ملزم احمد تنویر تاحال گرفتار نہیں ہوسکا۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے سے متعلق پوچھ گچھ کے لیے 20 سے زائد دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان نے پولیس کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں، جبکہ فلیٹ کی نشاندہی کرکے وہاں سے شواہد بھی اکٹھے کیے گئے ہیں۔گرفتار مسکان نے پولیس کو بیان دیا کہ اس کی متاثرہ خاتون ڈیانا سے ایک پارٹی میں ملاقات ہوئی تھی، جہاں ڈیانا نے مسکان اور نمرہ کے ساتھ اپنا موبائل نمبر شیئر کیا اور انہیں مختلف پارٹیز میں شرکت کی دعوت دی۔ملزم محسن کے مطابق ڈیانا سے اس کی پہلی ملاقات 25 ستمبر کو ہوئی، جو مسکان اور نمرہ کے ذریعے ایک نجی سوسائٹی میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ نمرہ، مسکان اور ڈیانا کے ساتھ ڈیفنس گیا۔ملزم علی نے پولیس کو بتایا کہ ڈیفنس میں واقع ایک فلیٹ میں ڈیانا کے ساتھ وقت گزارا گیا، جہاں پارٹی کے دوران صورتحال خراب ہوئی۔ محسن کے بیان کے مطابق وہ ڈیانا کو اپنی گاڑی میں لے کر نکلا اور غازی روڈ پہنچنے پر خاتون نے گاڑی میں ہاتھا پائی شروع کردی، جس کے بعد وہ مبینہ طور پر زبردستی گاڑی سے اتر گئی۔علی کے مطابق صورتحال سے گھبرا کر وہ گاڑی لے کر وہاں سے روانہ ہوگئے، جبکہ ڈیانا کا پرس اور موبائل فون گاڑی میں رہ گیا۔ اس کے بیان کے مطابق راستے میں موبائل فون اور پرس گاڑی سے باہر پھینک دیے گئے۔پولیس کے مطابق واقعے سے پہلے اور بعد کی سرگرمیوں، مختلف افراد سے روابط اور ڈیانا کی نقل و حرکت سمیت دیگر شواہد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔تفتیش کے دوران ڈیانا کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ پنجاب اسمبلی کی عمارت میں موجود دکھائی دیتی ہیں۔ ویڈیو میں انہیں اسمبلی ہال اور ایک دفتر میں دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ عمارت کے مختلف حصوں کے مناظر بھی ویڈیو میں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ ڈیانا پنجاب اسمبلی کس مقصد کے لیے گئی تھیں اور وہاں ان کی موجودگی کس اجازت یا رابطے کے ذریعے ہوئی۔دوسری جانب پولیس ذرائع نے بتایا کہ ڈیانا کے حوالے سے ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ ایک شخص کے ساتھ موجود ہیں اور دونوں کے درمیان مبینہ طور پر جھگڑا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پولیس اس ویڈیو اور اس سے متعلق حالات کو بھی تفتیش کا حصہ بنا رہی ہے۔مسکان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظورمبینہ زیادتی کے کیس میں گرفتار مسکان کو سخت سیکیورٹی میں کینٹ کچہری میں پیش کیا گیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے کیس کی سماعت کی۔پولیس نے عدالت سے مسکان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مسکان کا پہلا جسمانی ریمانڈ ہے اور تفتیش کے لیے اسے پولیس کی تحویل میں دیا جانا ضروری ہے۔مسکان نے عدالت کو بتایا کہ ڈیانا سے اس کا تعلق صرف دوستی کی حد تک ہے۔ اس کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قتل اور ڈکیتی کی دفعات کے علاوہ اس کا ریمانڈ نہیں لیا جاسکتا اور ملزمہ سے کوئی برآمدگی بھی مطلوب نہیں۔دوران سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نے مسکان سے میڈیکل کرانے کے حوالے سے بھی استفسار کیا، جس پر اس نے کہا کہ وہ اپنا میڈیکل نہیں کروانا چاہتی۔عدالت نے مسکان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کردیا۔ مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی میں درج ہے۔ڈیانا کی پاکستان میں سابق شادی کا انکشافدوسری جانب کیس کی تحقیقات کے دوران غیر ملکی خاتون ڈیانا کی پاکستان میں سابق شادی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ سامنے آنے والی دستاویز کے مطابق ڈیانا کی شادی 12 فروری 2025 کو سرائے عالمگیر، جہلم میں ہوئی تھی۔طلاق نامے کے مطابق ڈیانا کے شوہر نے تین طلاقیں دیں اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ ازدواجی زندگی محبت اور الفت کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتے۔دستاویز میں شوہر کی جانب سے طلاق کی تحریری تصدیق موجود ہے، جبکہ طلاق کو اسلامی اصولوں اور پاکستانی قانون کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔ دستاویز میں عدت مکمل ہونے کے بعد ڈیانا کو دوسری شادی کرنے کی اجازت کا بھی ذکر ہے۔پولیس کے مطابق غیر ملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے کی تفتیش جاری ہے، جبکہ گرفتار ملزمان پولیس ریمانڈ پر ہیں اور تیسرے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں