آبنائے ہرمز میں کارگو جہاز میں آگ، 2 ہلاکتوں کی اطلاع
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی بحری تجارت سے متعلق ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو پیش آنے والے واقعے کی اطلاع دی ہے۔اطلاع کے مطابق نامعلوم سمت سے آنے والا پروجیکٹائل کارگو جہاز سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی اور وہ سمندر میں بے سمت بہنے لگا۔ جہاز کے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم واقعے میں 2 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔برطانوی ادارے کے مطابق واقعے کی وجوہات اور حملے کی نوعیت جاننے کے لیے متعلقہ حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام کو جہاز سے ایندھن کے اخراج یا سمندری ماحول کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع بھی موصول نہیں ہوئی۔یوکے میری ٹائم نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ متاثرہ بحری جہاز کس کی ملکیت تھا، اس کی منزل کیا تھی اور پروجیکٹائل کہاں سے آیا۔ حملے کی نوعیت بھی واضح نہیں ہوسکی جبکہ کسی گروپ نے تاحال واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران نے مارچ سے اس آبی گزرگاہ کو بند کر رکھا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ ایرانی بندش اور اس راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں کے باعث توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی اس آبی گزرگاہ پر خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور دیگر شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی، جبکہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اس معاملے پر مزید سخت حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں