حوثی حملوں میں سعودی عرب کے 3 طیارے متاثر ہونے کا انکشاف

یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کے نتیجے میں ایک کے بجائے تین طیاروں کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ دو علاقائی حکام نے ہفتے کے روز اس واقعے کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔رپورٹس کے مطابق حوثی باغیوں نے جمعرات کو ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین طیارے متاثر ہوئے۔ اس سے قبل سعودی حکام نے ایک طیارے کو نقصان پہنچنے اور ایک پائلٹ کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی۔سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے جمعے کے روز بتایا کہ حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق جمعے کی شام حوثی باغیوں کی جانب سے ایک اور میزائل داغے جانے کے بعد ہوائی اڈے پر فضائی سرگرمیاں دوبارہ متاثر ہوئیں۔حملوں کے باعث ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت میں خلل پڑا اور متعدد پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق کئی پروازوں کو اپنے مقررہ راستوں سے ہٹایا گیا، جس کے باعث مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔حوثی حملوں کے بعد خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازع کئی برسوں سے جاری ہے، جس کے دوران شہری تنصیبات اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے