گندم، سیب اور گاجروں کی غذائیت میں 50 فیصد تک کمی کا انکشاف

ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گندم، سیب اور گاجروں سمیت متعدد غذاؤں میں غذائی اجزا کی مقدار 1960 کی دہائی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔ محققین کے مطابق مٹی کے معیار میں گراوٹ کو پھلوں، سبزیوں اور دیگر فصلوں میں غذائیت کی کمی کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ڈیپ سائنس وینچرز (ڈی ایس وی) کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق آج لوگوں کو پوٹاشیم، میگنیشیم اور کاپر جیسی اہم معدنیات کی اتنی ہی مقدار حاصل کرنے کے لیے تقریباً 60 سال پہلے کے مقابلے میں دوگنی مقدار میں بعض پھل اور سبزیاں کھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔مطالعے میں محققین نے نشاندہی کی کہ اناج اور ڈبل روٹی کے علاوہ گاجر، سیب اور مٹر جیسی غذاؤں میں بھی متعدد اہم غذائی اجزا کی مقدار میں 20 سے 50 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ تبدیلی روزمرہ خوراک سے حاصل ہونے والی وٹامنز اور معدنیات کی مقدار کے حوالے سے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق مٹی کی زرخیزی اور معیار میں تبدیلی فصلوں کی غذائی ساخت پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بظاہر معمول کے مطابق نظر آنے والی غذاؤں سے پہلے کی نسبت کم معدنیات حاصل ہو سکتی ہیں۔تحقیق میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ فصلوں میں غذائی اجزا کی کمی کے ساتھ وزن گھٹانے والی ادویات، خصوصاً اوزیمپک اور مونجارو، کے بڑھتے ہوئے استعمال سے بعض افراد میں ضروری غذائی اجزا کی کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان ادویات کے استعمال سے بھوک اور خوراک کی مقدار کم ہو سکتی ہے، جس کے باعث متوازن غذا کا حصول مزید اہم ہو جاتا ہے۔محققین نے خبردار کیا کہ برطانیہ میں کام کرنے کی عمر کے لاکھوں بالغ افراد ضروری وٹامنز اور معدنیات کی مطلوبہ سطح سے کم مقدار حاصل کرنے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں متوازن غذا، مختلف اقسام کے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال اور خوراک میں غذائی تنوع اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم غذائیت میں کمی کی اصل وجوہات اور مختلف فصلوں پر اس کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے