ایل پی جی مافیا بے لگام، سرکاری نرخوں پر گیس کی فروخت خواب بن گئی

لاہور سمیت ملک بھر میں ایل پی جی سرکاری نرخوں پر دستیاب نہ ہوسکی، دکانداروں کے خلاف کارروائیوں کے باوجود قیمتوں میں کمی نہ آسکی، جبکہ ایل پی جی پمپس ضبط کیے جانے کے اخراجات بھی صارفین سے وصول کیے جانے لگے ہیں۔دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے آئندہ ماہ سے سرکاری قیمت پر گیس کی فروخت ممکن ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ قیمتوں کے تعین کا فارمولا طے پاگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق موسم کی تبدیلی اور توانائی بحران کے باعث ایل پی جی کی کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے ساتھ ہی اس کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ایل پی جی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔ دکانداروں کے خلاف کارروائیوں کے باوجود صارفین کو مقررہ سرکاری نرخوں پر گیس فراہم نہیں کی جاسکی۔اوگرا کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایل پی جی کی 411 کمپنیوں میں سے صرف 45 کمپنیوں کے پاس مقامی پیداوار کا کوٹہ موجود ہے، جبکہ 300 سے زائد کمپنیاں انہی کمپنیوں سے ایل پی جی خرید کر آگے فروخت کرتی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر اوگرا کوٹہ سسٹم ختم کرکے بولی کا نظام متعارف کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما رانا عبدالجبار نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایل پی جی مہنگی فروخت ہونے کی ذمہ داری ڈسٹری بیوٹرز پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذمہ دار پلانٹس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پلانٹس سے ایل پی جی تقریباً 550 روپے فی کلو کے حساب سے مل رہی ہو تو اسے اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں پر فروخت کرنا ممکن نہیں۔رانا عبدالجبار کے مطابق اوگرا کی جانب سے قیمتوں سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن بھی درست نہیں، کیونکہ اس میں نقل و حمل سمیت دیگر اخراجات 2016 میں مقرر کردہ نرخوں کے مطابق شامل کیے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران ان اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ ایل پی جی سرکاری قیمت پر دستیاب نہیں اور موجودہ فارمولے کے تحت اس کی فروخت ممکن بھی نہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن نے حکومت کو قیمتوں کے تعین کے لیے مکمل شیڈول پیش کردیا ہے، جس پر مشاورت کے بعد قانونی تقاضے پورے کرکے عمل درآمد کروایا جائے گا۔ ان کے بقول آئندہ ماہ ایل پی جی کی قیمت 400 سے 450 روپے فی کلو کے درمیان مقرر ہونے کی توقع ہے۔ ایسوسی ایشن بھی چاہتی ہے کہ کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہو اور عوام کو سستی ایل پی جی فراہم کی جاسکے۔دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ پیرا فورس سمیت دیگر ادارے کارروائیوں کے دوران ان کے ایل پی جی پمپس ضبط کرکے لے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک پمپ کی قیمت 70 سے 75 ہزار روپے تک ہے اور اس نقصان کا بوجھ بھی بالآخر ایل پی جی کی قیمت بڑھا کر صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔دکانداروں نے سوال اٹھایا ہے کہ ایل پی جی مافیا اور کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے صرف دکانداروں کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ جب تک قیمتوں کے تعین اور سپلائی کے نظام میں موجود مسائل حل نہیں کیے جاتے، صارفین کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی ممکن نہیں ہوسکے گی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے