وزیراعظم اپنا گھر اسکیم سے ایک لاکھ 87 ہزار سے زائد افراد مستفید

اسلام آباد: وزیراعظم اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم سے مستفید ہونے والے قرض داروں کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہوگئی، جبکہ اسکیم کے تحت 511 ارب روپے مالیت کے 86 ہزار 899 قرضوں کی منظوری دی جاچکی ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت سے متعلق جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم کو ہاؤسنگ، زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے قرضوں کی فراہمی میں ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، میاں ریاض حسین پیرزادہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ اور شزہ فاطمہ خواجہ کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ارکان قومی اسمبلی حفیظ الدین اور چوہدری افتخار نذیر سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ معروف کمرشل بینکوں کے سربراہان اور نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک تین بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے، جن میں ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان خطرات اور اخراجات میں شراکت داری اور ڈیجیٹل سہولیات کا فروغ شامل ہیں۔اس سلسلے میں حال ہی میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے کاروباری افراد قرضوں کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانے کے ساتھ ان کی پیش رفت بھی دیکھ سکیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ایز کو ترجیحی بنیادوں پر قرضوں کی فراہمی کے لیے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 23 اکتوبر 2026 تک وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے مالیت کے 86 ہزار 899 قرضوں کی منظوری دی جاچکی ہے، جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جاچکے ہیں۔بریفنگ کے مطابق ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم 455 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور اس سے مستفید ہونے والے قرض داروں کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہوگئی ہے۔زرعی شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 329 ارب روپے جبکہ مستفید ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 35 لاکھ ہے۔ اسی طرح ایس ایم ایز کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم ایک ہزار 148 ارب روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 458 تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی اور ایس ایم ای شعبوں میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے تک پہنچانے کے اہداف مقرر کیے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت نے ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ایز کے لیے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ قرضوں کے حصول کا طریقہ کار آسان بنانے، مطلوبہ دستاویزات کی تعداد کم کرنے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔اس موقع پر تینوں ترجیحی شعبوں میں کمرشل بینکوں کی کارکردگی کے اشاریے بھی پیش کیے گئے، جس پر وزیراعظم نے اچھی کارکردگی دکھانے والے بینکوں کو سراہا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، ہاؤسنگ اور زراعت کی ترقی کے ذریعے معیشت کو بہتر بنانا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے حکومتی اقدامات کے تحت کسانوں، کاروباری افراد اور وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے درخواست گزاروں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے والے بینکوں کی کارکردگی کو قابل ستائش قرار دیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کسانوں، ایس ایم ایز اور اپنا گھر اسکیم کے درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کسی قسم کی رعایت نہ برتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور سرکاری ادارے بینکوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں اور توقع ہے کہ بینک بھی ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں اسی جذبے کے ساتھ تعاون کریں گے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی ترقی، برآمدات کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ حکومت زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپنا گھر اسکیم سے ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے کے ساتھ منسلک متعدد صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا۔وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں سے وابستہ متعلقہ فریقوں کے قرضوں اور مالی معاونت سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔انہوں نے اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو بھی ہدایت کی کہ باہمی تعاون سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمد کنندگان کے ٹیکس سے متعلق مسائل حل کیے جائیں، جبکہ ایس ایم ایز کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے لیے رسک کوریج کی جامع حکمت عملی بھی تیار کی جائے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے