ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے خلاف ایف بی آر کی کارروائی شروع

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں ایسے افراد کے نام ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے خارج کردیے گئے ہیں۔ اب انہیں مختلف مالی لین دین پر زیادہ شرح سے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق ٹیکس ایئر 2026 کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ اپ ڈیٹ کردی گئی ہے، جس میں 31 اکتوبر تک انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے نام شامل نہیں کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لسٹ سے خارج ہونے والے افراد کو مختلف لین دین پر دوگنا ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں ان کے خلاف مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔ایف بی آر حکام کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں دو مرتبہ توسیع کی گئی تھی، تاہم مقررہ مدت میں گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد محض تاخیر سے ریٹرن فائل کرکے خودبخود ایکٹو ٹیکس پیئر نہیں بن سکیں گے۔ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے انہیں اضافی سرچارج ادا کرنا ہوگا۔حکام کا کہنا ہے کہ توسیع کی درخواست دینے والے بعض افراد کے نام بھی نئی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔ درخواست منظور ہونے تک متعلقہ ٹیکس دہندگان کا اسٹیٹس غیر فعال رہے گا۔ذرائع کے مطابق ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے باہر ہونے کے باعث کاروباری نقصانات اگلے سال منتقل کرنے کا حق بھی متاثر ہوسکتا ہے، جبکہ نان فائلرز کو مختلف مالی معاملات پر زیادہ شرح سے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں نام نہ ہونے کی صورت میں ٹیکس ریفنڈ کے حصول میں بھی رکاوٹ پیش آسکتی ہے۔ایف بی آر کے مطابق ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے انفرادی ٹیکس دہندگان کو 25 ہزار روپے سرچارج ادا کرنا ہوگا، جبکہ ایسوسی ایشنز کے لیے یہ رقم 50 ہزار روپے اور کمپنیوں کے لیے ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے