علیمہ خان کے حقوق سلب کرنا کہاں کا انصاف ہے، سلمان اکرم راجا

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے علیمہ خان کی نظر بندی اور انہیں درپیش مشکلات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، اس کے ذریعے عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ صرف کسی اندیشے کی بنیاد پر کسی شخص کے بنیادی حقوق چھین لینا کہاں کا انصاف ہے۔ ان کے بقول سفاکیت کی تمام حدیں عبور کی جا چکی ہیں اور علیمہ خان کی نظر بندی کو 9 روز گزر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ عدالتوں سے استدعا کرتے ہیں کہ علیمہ خان کے معاملے میں انصاف کیا جائے۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خاندان نے ایک مثال قائم کی ہے۔سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر کو مذاکرات کا اختیار دیا ہے، تاہم ان کے علم میں نہیں کہ اس وقت بیک چینل پر کوئی مذاکراتی عمل جاری ہے یا نہیں۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں علیمہ خان کو جیل میں ادویات اور کپڑوں کی فراہمی سمیت اہلخانہ اور وکلا تک رسائی دینے کے لیے دائر متفرق درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔جسٹس عبہر گل نے علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، جبکہ درخواست گزار کی طرف سے وکیل رانا مدثر عمر عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے علیمہ خان کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اور انہیں جیل میں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ علیمہ خان کو جیل میں ضروری ادویات اور کپڑوں کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اہلخانہ اور وکلا سے ملاقات اور رابطے کی اجازت دی جائے۔عدالت نے معاملے پر سپرنٹنڈنٹ جیل سے آج دوپہر 2 بجے تک رپورٹ طلب کرلی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے