ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز کی عالمی تعیناتی کی منظوری

بیجنگ: چین کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں ڈیپ سیک اور منی میکس نے اپنے اے آئی ماڈلز کی عالمی سطح پر تعیناتی اور اوپن سورسنگ کے لیے رجسٹریشن کا عمل مکمل کرتے ہوئے متعلقہ منظوری حاصل کر لی ہے۔ اس پیش رفت سے دونوں کمپنیوں کی بیرونِ ملک تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق، دونوں کمپنیوں نے اس حوالے سے ضروری ضابطہ جاتی تقاضے پورے کر لیے ہیں۔دریں اثنا، جمعے کے روز سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’یو یوان تان تیان‘ کی ایک الگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ بیرونِ ملک انٹرنیٹ صارفین نے چین کے دیگر اوپن سورس بڑے لینگویج ماڈلز تیار کرنے والی کمپنیوں پر بھی اسی طرز پر پیش رفت کرنے کے لیے زور دیا ہے۔اے آئی ٹیکنالوجی کی برآمد پر نئے ضوابطرپورٹ کے مطابق، چین کی جانب سے مجوزہ برآمدی پابندیوں کا دائرہ ان اے آئی ماڈلز کی بیرونِ ملک تعیناتی تک بڑھایا گیا ہے جن میں محدود یا حساس ٹیکنالوجی شامل ہو۔ بیجنگ کے اس اقدام کو واشنگٹن کے ساتھ بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی اور تکنیکی مقابلے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔چین نے 16 اکتوبر کو مصنوعی ذہانت سے متعلق برآمدی کنٹرول کے نئے مجوزہ ضوابط متعارف کرائے تھے، جن میں 23 مختلف ٹیکنالوجیز کو شامل کیا گیا۔ ان میں اے آئی ماڈلز، اے آئی ایجنٹس اور کمپیوٹنگ کلسٹرز بھی شامل ہیں۔ان ضوابط کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تکنیکی مقابلے کے دوران قومی سلامتی کے لیے اہم ٹیکنالوجیز کی منتقلی کو محدود کرنا ہے۔اوپن سورس ٹیکنالوجی کی برآمد جاری رہے گیچینی وزارتِ تجارت کے مطابق، نئے ضوابط کے باوجود مصنوعی ذہانت سے متعلق زیادہ تر ٹیکنالوجیز کی برآمد جاری رہے گی۔ اوپن سورس ٹیکنالوجی برآمد کرنے اور بیرونِ ملک اپنے کمپیوٹنگ مراکز چلانے والی چینی کمپنیوں کے لیے لائسنسنگ کے عمل کو بھی آسان بنایا جائے گا۔وزارتِ تجارت نے واضح کیا ہے کہ نئے ضابطہ جاتی فریم ورک میں اے آئی ماڈلز کے تکنیکی پیمانوں اور کمپیوٹنگ صلاحیت کے حجم سے متعلق حدود مقرر کی گئی ہیں، تاہم بیشتر اے آئی ٹیکنالوجیز کی برآمد پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔خصوصی طور پر اوپن سورس منصوبوں اور بیرونِ ملک کمپیوٹنگ مراکز چلانے والی کمپنیوں کے لیے آسان لائسنسنگ نظام کی گنجائش برقرار رکھی گئی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے