آزاد جمو ں کشمیر پولنگ ختم ،گنتی جا ری

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات 2026ء کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے تین اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں میں پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر کی ہدایت پر ووٹنگ شام 5 بجے کے بجائے شام 6 بجے تک جاری رہی۔
صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جبکہ کمشنر میرپور ڈویژن راجہ طاہر ممتاز خان نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کر کے انتظامات، سکیورٹی اور ووٹرز کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں ووٹر ٹرن آؤٹ نسبتاً کم رہا، جبکہ غیر سرکاری نتائج شام ساڑھے 6 بجے کے بعد موصول ہونا شروع ہوں گے۔
میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں مجموعی طور پر 14 لاکھ ایک ہزار 439 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جن میں 7 لاکھ 25 ہزار 118 مرد اور 6 لاکھ 75 ہزار 628 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ انتخابی عمل کے لیے مجموعی طور پر 2 ہزار 454 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے۔
انتخابات میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 296 امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی نے ایل اے-8 کوٹلی ون راج محل کے متعدد پولنگ اسٹیشنز پر مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث ری پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے پولنگ ایجنٹ کو یرغمال بنانے، بڑھتے ہوئے ہجوم اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات پر فوری نوٹس لینے، اضافی سکیورٹی تعینات کرنے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے خبردار کیا ہے کہ ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے یا انتخابی ماحول خراب کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ چیف سیکریٹری آزاد کشمیر خوشحال خان نے کہا ہے کہ پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ریاستی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے