نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج

اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ سمیت تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔مقدمہ ریاست کی جانب سے این سی سی آئی اے کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر ابراہیم فاروق کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق نورین نیازی نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ریاستی اداروں، بشمول مسلح افواج، سے متعلق مبینہ طور پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ بیانات کے ذریعے ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنے، عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز، توہین آمیز اور مبینہ طور پر گمراہ کن مواد کی تشہیر کی گئی۔تحقیقات کے مطابق متنازع انٹرویو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر مختلف اکاؤنٹس سے شیئر کیا گیا، جس سے مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا گیا اور عوام میں نفرت، خوف اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق نورین نیازی کو متعدد بار نوٹسز جاری کرکے بیان ریکارڈ کرانے اور تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی گئی، تاہم ابتدائی شواہد کی بنیاد پر مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس نے نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ کی دفعات 20 اور 26-A کے علاوہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 505 اور 508 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ دیگر ممکنہ کرداروں کے تعین کے لیے تفتیش جاری ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے