بلاول بھٹو نے نکیال واقعے کا الزام ن لیگ پر عائد کر دیا، شفاف تحقیقات کا مطالبہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوران نکیال میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں پارٹی کارکن مختار یونس کی ہلاکت کا الزام مسلم لیگ (ن) پر عائد کرتے ہوئے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں بلاول بھٹو نے شہید کارکن کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار عمیر نعیم کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں مختار یونس جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دو روز قبل سامنے آنے والی مبینہ فائرنگ کی ویڈیو کا بروقت نوٹس لیا جاتا تو آج ایک قیمتی جان ضائع نہ ہوتی۔
بلاول بھٹو کے مطابق مختار یونس پیپلز پارٹی کے امیدوار جاوید بڈھانوی کی انتخابی مہم میں سرگرم تھے، جبکہ مخالفین اپنی ممکنہ شکست دیکھ کر تشدد پر اتر آئے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے بھی نکیال میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ایک کارکن جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حلقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کی گئی، جبکہ پہلے سے موصول ہونے والی شکایات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
شیری رحمان نے الیکشن کمیشن سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات، ذمہ داران کی گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کو تشدد میں تبدیل کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے ایل اے-8 کوٹلی ون راج محل کے متعدد پولنگ اسٹیشنز پر مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث ری پولنگ کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق پولنگ ایجنٹ کو مبینہ طور پر یرغمال بنایا گیا جبکہ مختلف پولنگ اسٹیشنز سے بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہوئیں۔
شیری رحمان نے مزید مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں اضافی پولیس اور سکیورٹی فورس تعینات کی جائے، تمام شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ووٹرز کو آزادانہ حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں