ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد لینے کا مشورہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کے خلاف اسرائیل کی فوجی مدد قبول کرے۔ ٹرمپ کے مطابق اس معاملے میں اسرائیل سعودی عرب کے لیے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق 16 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ کیا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنی چاہیے؟ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہاں، اسرائیل اس معاملے میں سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی اچھا قرار دیا اور کہا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ شاید پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ تاہم انہوں نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کسی نئے معاہدے یا مذاکرات کی بحالی کا اعلان نہیں کیا۔اس سے قبل 13 اکتوبر کو اسرائیلی اخبار ہاریتز نے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کے خلاف اسرائیلی فوجی مدد کی پیشکش قبول کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کھلے فوجی تعاون پر سعودی عوام کا ردعمل منفی ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ ابراہام معاہدوں کے تحت متعدد عرب ممالک نے امریکی ثالثی میں اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ تاہم سعودی عرب نے صدر ٹرمپ کی جانب سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور یقین دہانیوں کے باوجود اب تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ٹرمپ کا حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ خطے کی سفارت کاری اور سلامتی کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم سعودی حکومت کی جانب سے اس تازہ بیان پر ردعمل یا اسرائیلی فوجی مدد قبول کرنے سے متعلق کسی نئے فیصلے کی اطلاع فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں