تین سال میں 18 لاکھ سے زائد پاکستانی ملک چھوڑ گئے

اسلام آباد: گزشتہ تین سال کے دوران ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں پاکستانی بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں نے ملک چھوڑا۔وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز محمد عون ثقلین نے قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ بیرون ملک منتقل ہونے والوں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، نرسیں، فارماسسٹس اور اکاؤنٹنٹس سمیت مختلف پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی مسلسل بیرون ملک منتقلی قومی افرادی قوت کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 45 ہزار 830، 2025 میں 28 ہزار 726 جبکہ 2026 میں اب تک 15 ہزار 850 اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بیرون ملک جا چکے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق صرف 2024 کے دوران 23 ہزار 674 مینیجرز بھی روزگار کے سلسلے میں پاکستان سے بیرون ملک منتقل ہوئے۔ماہرین کے نزدیک ہنرمند افراد کی بیرون ملک منتقلی سے ملک کو تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں افرادی قوت کی دستیابی کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں بیرون ملک جانے والے افراد کی مجموعی تعداد اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے سالانہ اعداد و شمار کی درجہ بندی کی مزید وضاحت موجود نہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے