تمام سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے، حافظ نعیم الرحمان
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین سیاسی قیدیوں کی گرفتاریاں کسی صورت قابل قبول نہیں، حکومت انہیں فوری طور پر رہا کرے۔ادارہ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 9 مئی کے بعد سے قید سیاسی رہنماؤں کو بھی رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، شاہ محمود قریشی اور محمود الرشید کو مزید قید رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ متعدد سیاسی قیدیوں کی صحت بھی خراب ہے، اس لیے حکومت اس معاملے کو فوری طور پر حل کرے اور سیاسی قیدیوں کے معاملے کو ایڈریس کرکے حالات معمول پر لائے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو ایسی سیاسی کشمکش میں الجھایا جا رہا ہے جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں، جبکہ سیاسی محاذ آرائی کے باعث عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹ رہی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں یا رہنماؤں تک محدود نہیں بلکہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی اپنی تین ڈیمانڈز ہیں، تاہم جماعت اسلامی کا مؤقف تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کے حوالے سے کہا کہ مارچ مؤخر کیا گیا ہے، ختم نہیں کیا گیا۔ حکومت سے بات چیت کے باوجود جماعت اسلامی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے رابطے اور بات چیت میں پیش رفت کے بعد جماعت اسلامی اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لیوی کا بھتہ ختم نہ کیا گیا تو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں