کولیسٹرول کم کرنے والی ٹیکنالوجی سے متعلق اہم انکشاف!
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خون سے کولیسٹرول کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایفیریسس (Apheresis) جسم میں موجود مضر ’فورایور کیمیکلز‘ کو بھی خارج کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ایفیریسس مشینیں ایسے مریضوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں جن کے خون میں کولیسٹرول کی سطح عام ادویات سے قابو میں نہیں آتی۔ اس عمل میں ایک بازو سے خون نکال کر اس میں موجود چکنائی کو فلٹر کیا جاتا ہے، پھر صاف شدہ خون دوسرے بازو کے ذریعے جسم میں واپس پہنچا دیا جاتا ہے۔جرمنی کی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈریسڈن میں قائم دنیا کے سب سے بڑے ایفیریسس مرکز میں ہر سال تقریباً 10 ہزار ایسے علاج کیے جاتے ہیں۔تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے استعمال شدہ فلٹر بیگز کا تجزیہ کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ چکنائی کے ساتھ مشین خون سے اور کون سے ذرات کو بھی الگ کرتی ہے۔محققین نے خاص طور پر یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا یہ فلٹر جسم میں طویل عرصے تک باقی رہنے والے زہریلے فورایور کیمیکلز اور مائیکرو پلاسٹکس کو بھی مؤثر انداز میں خارج کر سکتا ہے یا نہیں۔ماہرین کے مطابق اگر مزید تحقیقات میں ان نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ طریقہ مستقبل میں ماحول سے پیدا ہونے والی مضر آلودگی کے اثرات کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں