خلا میں ڈیٹا سینٹرز، ٹیکنالوجی کا انقلاب یا ماحولیات کے لیے نیا خطرہ؟
لاہور: خلائی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسان کے لیے کائنات کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب خلا صرف سائنسی تحقیق، سیاروں کی کھوج یا مصنوعی سیاروں کی تنصیب تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اسے مستقبل کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مرکز بنانے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہیں۔اسی تناظر میں ارب پتی کاروباری شخصیات ایلون مسک اور جیف بیزوس کی جانب سے خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے تصور نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خلا میں قائم ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو زیادہ مؤثر انداز میں پورا کر سکتے ہیں، جبکہ زمین پر توانائی کے دباؤ اور گرمی کے اخراج میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔دوسری جانب ماہرین ماحولیات اور خلائی سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس منصوبے پر جامع منصوبہ بندی کے بغیر عمل کیا گیا تو راکٹ لانچز میں اضافے، خلائی ملبے، کاربن اخراج اور دیگر ماحولیاتی اثرات کرۂ ارض اور خلائی ماحول دونوں کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ایلون مسک کی کمپنی SpaceX اور جیف بیزوس کی Blue Origin ان نمایاں کمپنیوں میں شامل ہیں جو مدار میں ڈیٹا سینٹرز بھیجنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ خلا میں قائم ڈیٹا سینٹرز سورج سے تقریباً لامحدود توانائی حاصل کر سکیں گے، جس سے آپریٹنگ اخراجات کم اور کارکردگی بہتر ہوگی۔تاہم تمام ماہرین اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ Earthjustice کی نمائندگی میں سائنسدانوں کے ایک گروپ نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) سے مطالبہ کیا ہے کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے وابستہ ماحولیاتی خطرات کا جامع جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر لاکھوں مصنوعی سیارے زمین کے گرد مدار میں بھیجے گئے تو نہ صرف ماحول بلکہ جنگلی حیات اور رات کے قدرتی آسمان پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔’’Public Employees for Environmental Responsibility‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹِم وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی جائزے کے بغیر مدار میں ڈیٹا سینٹرز کی اجازت دینا غیر ذمہ دارانہ فیصلہ ہوگا۔ ان کے مطابق خلائی ملبہ، آلودگی، فضا کو ممکنہ نقصان اور جنگلی حیات پر اثرات جیسے معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا ضروری ہے۔حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے فروغ نے کمپیوٹنگ طاقت اور ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی ضرورت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، جس کے باعث خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ سال جیف بیزوس نے پیش گوئی کی تھی کہ آئندہ 10 سے 20 برسوں میں خلا میں ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ ایلون مسک نے بھی اس منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسپیس ایکس یہ کام ضرور کرے گی۔ماہرین کے مطابق اگرچہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز مستقبل کی ٹیکنالوجی میں انقلاب لا سکتے ہیں، تاہم ان کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات اور خلائی آلودگی سے متعلق خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں