آئینی ترمیم پر مذاکرات : منصور علی شاہ کی چیف جسٹس تعیناتی سے مشروط

اپوزیشن نے حکومت سے آئینی ترمیم پر دوسرے راؤنڈ کے مذاکرات کے لیے جسٹس منصور علی شاہ کی چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی شرط عائد کردی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جے یو آئی (ف) نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئینی ترمیم کے موجودہ مسودے پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، اگر حکومت کوئی سنجیدہ عدالتی اصلاحات چاہتی ہے تو اس پر بات کی جاسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن نے مشترکہ طور پر حکومت کو آگاہ کردیا ہے کہ عدالتی اصلاحات پر مذاکرات سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کی چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹی فیکیشن جاری کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ رات پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کو اپوزیشن کے مطالبے سے آگاہ کردیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان سیاسی مصروفیات ترک کرکے 10 روز کے لیے ملتان روانہ ہوچکے ہیں جہاں وہ ختم نبوت کانفرنسز اور دیگر مذہبی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے