مومنہ اقبال کی بہن اور ان کے شوہر حمزہ حبیب نے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ الزامات مسترد کردیئے
معروف پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال اور ان کے شوہر حمزہ حبیب نے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے معاملے پر اپنا مؤقف سامنے رکھ دیا۔رمشا اقبال اور حمزہ حبیب نے ڈیجیٹل میڈیا سے خصوصی گفتگو کے دوران معاملے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بات کی اور ثاقب چدھڑ کے بیانات پر ردعمل کا اظہار کیا۔رمشا اقبال نے کہا کہ ثاقب چدھڑ کے بیانات سن کر انہیں حیرت ہوئی۔ ان کے مطابق ابتدا میں انہیں یہ معاملہ عجیب محسوس ہوا، تاہم اب صورتحال ایسی ہے کہ اس پر سنجیدگی سے بات کرنا ضروری ہوگیا ہے۔اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے رمشا اقبال نے بتایا کہ ان کا خاندان ایک معزز پس منظر رکھتا ہے اور انہیں کبھی مالی مشکلات کے باعث اپنی تعلیم روکنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم مکمل ہونے تک ان کے والد حیات تھے اور ان کی تعلیم کے اخراجات کے حوالے سے کبھی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔رمشا اقبال کے مطابق انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا اور لندن سمیت مختلف مقامات پر درخواستیں دیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے آسٹریلیا کو اپنے لیے بہتر انتخاب سمجھا اور وہاں داخلہ لے لیا۔انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں تعلیم کے دوران ان کے والد اور بہن مومنہ اقبال ان کی مالی معاونت اور بینک اسٹیٹمنٹ سے متعلق معاملات میں گارڈین تھے۔ثاقب چدھڑ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے رمشا اقبال نے کہا کہ کسی خاندان کے بارے میں اس طرح کی گفتگو مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو دوسروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اپنی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔حمزہ حبیب نے بھی مؤقف پیش کردیادوسری جانب رمشا اقبال کے شوہر حمزہ حبیب نے بھی انٹرویو کے دوران معاملے پر اپنا مؤقف بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی کی رخصتی اور ولیمہ اگلے سال ہوگا اور ان تقریبات کا ثاقب چدھڑ کے جیل جانے یا نہ جانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔حمزہ حبیب نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کی کسی شخص سے ذاتی لڑائی نہیں ہے، تاہم جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے یا کوئی شخص اپنے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کررہا ہے تو وہ اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں کسی قسم کی شہرت یا تعارف کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول ان کا کیس قانونی اور سائنسی بنیادوں پر مضبوط ہے۔حمزہ حبیب نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں مخالف فریق کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، جبکہ ان کے خلاف کارروائی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاملے میں واقعی مضبوط شواہد موجود ہوتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔حمزہ حبیب کے مطابق وہ اس وقت اپنا مؤقف آزادانہ طور پر پیش کررہے ہیں اور قانونی عمل کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔واضح رہے کہ اس معاملے میں ثاقب چدھڑ اور دیگر متعلقہ فریقین کا مؤقف بھی موجود ہے۔ فریقین کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات اور دعوؤں کی حتمی تصدیق یا تردید متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور عدالت کے فیصلے سے ہی ہوسکتی ہے، جبکہ معاملے کی قانونی حیثیت کا حتمی فیصلہ متعلقہ فورمز ہی کریں گے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں