آٹھ ممالک کا علاقائی تنازعات مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق
اسلام آباد: پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ آٹھوں ممالک نے اتفاق کیا کہ زیرِ التوا تنازعات کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ترکیہ کے شہر استنبول میں 23 اکتوبر کو ہونے والے آٹھ ملکی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال، امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع، اسرائیل فلسطین تنازع، غزہ میں دو ریاستی حل کی ضرورت اور سعودی عرب و یمن کی حکومت پر حوثی ملیشیا کے حملوں سمیت اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ اسود میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جہاز رانی کی آزادی اور اہم بحری راستوں کے تحفظ پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزرائے خارجہ نے اس امر پر اتفاق کیا کہ علاقائی تنازعات کے سکیورٹی، معیشت اور تجارت پر مرتب ہونے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ آٹھوں ممالک خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی اقدامات میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ شرکا نے تنازعات کی روک تھام اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اسی فارمیٹ میں مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔یہ اجلاس ترکیہ، مصر، پاکستان اور سعودی عرب پر مشتمل گروپ ’آر فور‘ (R4) اور فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہوا۔ اعلامیے کے مطابق اس فارمیٹ میں آٹھوں ممالک کا یہ پہلا اجلاس تھا، جس کی میزبانی ترکیہ نے کی۔آر فور گروپ کا مقصد علاقائی معاملات پر مشاورت اور امن و استحکام کے لیے سفارتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس اجلاس میں چار یورپی ممالک کی شرکت سے مشرق وسطیٰ کے بحرانوں پر علاقائی اور یورپی ممالک کے درمیان رابطوں کو وسعت دینے کی کوشش کی گئی۔اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جبکہ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے۔ ان بحری گزرگاہوں میں عدم تحفظ یا رکاوٹوں کے باعث تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل، عالمی سپلائی چین، جہاز رانی کے اخراجات اور توانائی کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔پاکستان کے لیے بھی یہ اجلاس سفارتی اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسلام آباد علاقائی کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے رابطوں میں شامل ہے۔اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ترک ہم منصب حاقان فیدان سے ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال، فلسطین اور علاقائی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے علاقائی معاملات پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں