مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں فرق صرف7 فیصد رہ گیا
اسلام آباد:الیکشن کمیشن(ای سی پی) کے اقدامات اور خواتین کے ووٹوں کے اندراج کی مہم کے نتیجے میں 2018 کے عام انتخابات میں ووٹر فہرستوں میں خواتین اور مردوں کا 11.78 فیصد جنڈر گیپ 2025 میں کم ہوکر 7فیصد تک رہ گیا ہے۔
ای سی پی ذرائع کے مطابق ملک میں اس وقت رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 13 کروڑ 44 لاکھ 28 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 21 لاکھ 24 ہزار سے متجاوز اور خواتین ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 23 لاکھ 4 ہزار سے زائد ہے۔پنجاب میں مرد ووٹرز کی تعداد 4 کروڑ 7 لاکھ جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 58 لاکھ 62 ہزار سے زائد ہے۔
سندھ میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 52 لاکھ 15 ہزار جبکہ خواتین 1 کروڑ 29 لاکھ 54 ہزار سے زائد ہیں۔خیبر پختونخوا میں مرد ووٹرز 1 کروڑ 4 لاکھ 40 ہزار اور خواتین 1 کروڑ 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد ہیں۔بلوچستان میں مرد ووٹرز کی کل تعداد 31 لاکھ 43 ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 24 لاکھ70 ہزار سے زائد ہے۔
اسلام آباد میں مرد ووٹرز کی کل تعداد 6 کروڑ 31 لاکھ جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 75 ہزار سے زائد ہے۔2018 میں ملک میں کل رجسٹرڈ ووٹرز 10 کروڑ 60 لاکھ تک تھے جن میں مرد ووٹرز 5 کروڑ 92 لاکھ جبکہ خواتین ووٹرز 4 کروڑ 67 لاکھ تھیں، بعد میں سالانہ بنیاد پر جنڈر گیپ میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور اب یہ 7 فیصد تک آگیا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں