روس میں ریاستی دوما کے انتخابات کیلئے پولنگ شروع
ماسکو: روس میں نویں ریاستی دوما، یعنی پارلیمان کے ایوانِ زیریں، کے انتخابات کے لیے تین روزہ پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ملک بھر میں ووٹرز ریاستی دوما کی 450 نشستوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ پولنگ 18، 19 اور 20 ستمبر تک جاری رہے گی۔روس کے مختلف ٹائم زونز میں پولنگ کا آغاز مرحلہ وار ہوا، جبکہ روایتی پولنگ اسٹیشنز کے ساتھ بعض علاقوں میں ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ریاستی دوما کی 450 نشستوں میں سے 225 ارکان کا انتخاب سیاسی جماعتوں کو ملنے والے ووٹوں کی بنیاد پر متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت جبکہ باقی 225 ارکان براہ راست انتخابی حلقوں سے منتخب کیے جاتے ہیں۔ریاستی دوما کے انتخابات کے ساتھ روس کے 39 علاقوں میں علاقائی قانون ساز اداروں کے انتخابات بھی ہو رہے ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں گورنرز، علاقائی سربراہان اور بلدیاتی نمائندوں کا بھی انتخاب کیا جا رہا ہے۔روسی مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کی نگرانی کے لیے 133 ممالک سے ایک ہزار 126 بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین روس پہنچے ہیں۔ کمیشن کے مطابق یہ تعداد 2024 کے صدارتی انتخابات میں موجود غیرملکی مبصرین سے بھی زیادہ ہے۔بین الاقوامی مبصرین کو پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کرنے، ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کے عمل کا مشاہدہ کرنے اور متعلقہ انتخابی کمیشنوں سے معلومات حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ روسی انتخابی ضابطے کے مطابق مبصرین انتخابی عمل مکمل ہونے تک حتمی عوامی جائزہ پیش نہیں کرسکتے۔انتخابات کی نگرانی کے لیے چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی قیادت میں پاکستانی وفد کی شرکت بھی خبر کا اہم حصہ ہے۔ بین الاقوامی مبصرین انتخابی عمل، پولنگ کے انتظامات اور ووٹوں کی گنتی کے طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انتخابات سے قبل شہریوں پر زور دیا کہ وہ ووٹنگ میں حصہ لیں۔ ان کے مطابق ہر ووٹر کی آواز اہم ہے اور شہریوں کی شرکت سے وفاقی پارلیمان، علاقائی اسمبلیوں اور مقامی اداروں میں نمائندگی کا تعین ہوگا۔روس میں ریاستی دوما کے لیے تین روزہ پولنگ 20 ستمبر کو مکمل ہوگی، جس کے بعد مختلف علاقوں میں ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج مرتب کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔انتخابات کے عمل پر بین الاقوامی سطح پر مختلف آرا بھی سامنے آئی ہیں۔ یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) سے منسلک مبصر اداروں نے روس کی جانب سے او ایس سی ای کے مبصرین کو دعوت نہ دینے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل ملکی قوانین کے مطابق منعقد کیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں