خواتین کو مذاق کا موضوع نہ بنائیں، ہانیہ عامر
پاکستانی اداکارہ اور گلوکارہ ہانیہ عامر نے خواتین کے جسم، حلیے، عمر اور ذاتی زندگی کو مزاح یا تفریح کا موضوع بنانے والے کانٹینٹ کریئیٹرز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لوگوں سے ایسے مواد کو فروغ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔ہانیہ عامر نے انسٹاگرام پر جاری اپنی اسٹوری میں کہا کہ 2026ء میں بھی خواتین کے جسم، چہرے، ظاہری شکل، عمر اور ذاتی زندگی کو مذاق کا موضوع بنانا مضحکہ خیز ہے۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایسے مواد کو محض ’’رائے‘‘ یا ’’مزاح‘‘ قرار دے کر اس کے اثرات سے بری الذمہ نہیں ہوا جاسکتا، کیونکہ کسی خاتون کی زندگی کو تفریحی مواد میں تبدیل کرنے اور محض تبصرہ کرنے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ہانیہ عامر نے کہا کہ الفاظ کے اثرات صرف کہے جانے کے لمحے تک محدود نہیں رہتے، خاص طور پر اس وقت جب بات کرنے والے شخص کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگ جڑے ہوئے ہوں۔ ان کے مطابق جب کوئی شخص عوامی سطح پر اس نوعیت کی گفتگو کرتا ہے تو وہ اس بات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے کہ لوگ کس چیز کو معمول، مزاحیہ یا قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔اداکارہ نے مواد دیکھنے والوں کی ذمہ داری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ معاشرہ اجتماعی طور پر خواتین کے بارے میں کس قسم کی گفتگو کو قابلِ قبول سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے سے بہتر رویوں کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ایسے ہی رویوں کو مقبولیت یا توجہ دینا مناسب نہیں جن کی مخالفت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ہانیہ عامر نے واضح کیا کہ خواتین عوامی ملکیت نہیں ہیں، ان کے جسم عوامی تبصروں کا موضوع نہیں ہونے چاہئیں اور ان کے چہروں کو بھی عوامی بحث کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔اداکارہ نے لوگوں سے ایسے کانٹینٹ کریئیٹرز کو توجہ اور رسائی نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو تماشہ بنا کر اسے تفریح کا نام دینے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔اگرچہ ہانیہ عامر نے اپنی پوسٹ میں کسی مخصوص شخص کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی اداکارہ کترینہ کیف کو بیٹے کی پیدائش کے بعد پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آنے پر سوشل میڈیا پر تنقید اور ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب پاکستان میں اداکارائیں ژالے سرحدی اور آمنہ الیاس بھی آن لائن ایسے ناقدین کے خلاف آواز اٹھا چکی ہیں جو اپنے مواد میں خواتین کو تنقید اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ دونوں اداکاراؤں کے مطابق ایسے رویوں کا اثر صرف معروف خواتین تک محدود نہیں رہتا بلکہ معاشرے میں دیگر خواتین بھی اس بڑھتی ہوئی نفرت سے متاثر ہوتی ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں