جنوبی کوریا میں صدر کے استعفے کے لیے مظاہرے
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں سینکڑوں مظاہرین نے صدر یون سک یول کے استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا۔ صدر نے مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش کی جس پر عوامی غصہ بڑھ گیا ۔
شام کے وقت ایک جلسے کے بعد مظاہرین بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ نعرے لگاتے مظاہرین نے سڑکوں پر مارچ کیا ۔ صدر یون کی مارشل لا لگانے کی کوشش پر نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی اتحادیوں میں بھی تشویش پیدا ہوئی ہے ۔

مارشل لا کے نفاذ کی سفارش کرنے والے جنوبی کوریا کے وزیر دفاع اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتے کے روز پارلیمنٹ میں صدر یون کے مواخذے کے لیے ووٹنگ کی کوشش کریں گے۔

پارٹی کے ترجمان کے مطابق، اپوزیشن صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کوشاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:محمد انگلینڈ اور ویلز میں مقبول ترین نام بن گیا
دوسری جانب حکمران پیپل پاور پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ مواخذے کی کوششوں کی مخالفت کرے گی، جبکہ یون کی پانچ سالہ مدت کے ابھی دو سال باقی ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں