پی ٹی اے واجبات وصول کرنے میں ناکام، نیب نے انکوائری شروع کر دی
10 بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کی طرف سے قومی خزانے کو 75 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچانے کی خبروں پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی طرف سے ایکشن لینے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے بی وائرلیس لوکل لوپ (WLL) اور لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل (LDI) کمپنیوں سے اربوں روپے کے بقایاجات وصول کرنے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی ناکامی پر انکوائری شروع کردی ہے۔
پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق پی ٹی اے کی غفلت کے باعث قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے، نیب نے اس حوالے سے کارروائی کا اشارہ دیا۔ کراچی نیب بیورو نے ایک کال اپ نوٹس جاری کیا ہے، جس کا نمبر NABK20181004144116/IW-1/CO-A/NAB(K)/2024 ہے، جس میں پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل لائسنسنگ کو انکوائری کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نیب نے پی ٹی اے سے کیس سے متعلق تمام متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات لانے کو بھی کہا ہے،خط میں کہا گیا – ڈبلیو ایل ایل اور ایل ڈی آئی کمپنیوں کے بقایا واجبات کی تفصیلات اور – ٹیلی کام کمپنیوں کے ذریعے کی گئی ادائیگیوں کے ریکارڈ – واجبات کے حوالے سے ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ خط و کتابت – کیس سے متعلق اندرونی انکوائریاں اور رپورٹس شامل ہیں نوٹس کی تعمیل کرنے میں ناکامی قومی احتساب آرڈیننس (NAO) 1999 کے تحت مزید کارروائی کا باعث بن سکتی ہے، جس میں گرفتاری اور مقدمہ بھی شامل ہے۔
پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک ٹیلی کام کمپنی میں نیب انتظامیہ کو تفصیلات فراہم کی ہے جس پر نیب انتظامیہ کی طرف سے ریکارڈ طلب کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ پیشرفت نیب کی بدعنوانی سے نمٹنے اور سرکاری اداروں میں احتساب کو یقینی بنانے کی کوششوں کے حصے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ انکوائری سے پی ٹی اے کی واجبات کی وصولی میں ناکامی اور مالی نقصانات کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے والے حالات پر روشنی ڈالنے کی توقع ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں