پاکستانیوں کی ملک بدری پرسینیٹر ذیشان خانزادہ کے حکومت سے4سوالات

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کے چیئرمین سینیٹر ذیشان خانزادہ نے حکومت سے4سوالات کا جواب طلب کر لیا۔ سینیٹرخانزادہ نے سوال کیا کہ بیرون ممالک سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کی نوبت کیوں آئی؟وطن واپسی پرمقدمات اور پاسپورٹ بلاک کی سزا صرف ڈی پورٹ افراد کوکیوں دی جارہی ہے؟
بھکاریوں اوردیگر جرائم پیشہ افراد کو بیرون ملک بھیجنے والوں کے خلاف کیاایکشن لیاگیا؟ایک سال میں سیاسی پناہ کی سوالاکھ درخواستوں کی اصل وجہ کیا ہے؟
یہ سوالات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کے اجلاس میں اٹھائے گئے ، اجلاس سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیر صدارت منگل کے روزپارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں پاسپورٹ 5 سال کے لیے بلاک کیے جانے، اوورسیز پاکستانیوں کی ملک بدری کے بڑھتے واقعات،سعودی عرب اور دیگر ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج اور جعلی دستاویزات کے معاملے پر غور کیا گیا۔

اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 2019 سے 2025 تک تقریباً 7873 پاکستانیوں کو مختلف وجوہات کی کی بنیاد پر ڈی پورٹ کیا گیا اور تقریباً 1064 کو بھیک مانگنے کی وجہ سے ڈی پورٹ کیا گیا۔ ڈی پورٹ ہونے والے افراد میں سے 1460 افراد 691 اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ذریعے بیرون ملک گئے تھے۔ سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ وزارت کی جانب سے بھیک اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات بھی قوم کی بدنامی کا باعث بنے ۔
کمیٹی نے ڈی پورٹ افراد کو بیرون ملک بھیجنے میں ملوث اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے خلاف کارروائی کے بارے میں بھی دریافت کیا جس پر حکام نے بتایا کہ وزارت نے ملوث افراد کو شو کاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔حکام نے مزید بتایا کہ وزارت نے بھیک مانگنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے تمام ڈی پورٹیز کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، بھیک مانگنے کی زیادہ شکایات خلیجی ممالک جانے والے پاکستانیوں سے متعلق ہیں ۔ سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ بیرون ملک یا پاکستان کے علاقائی دائرہ اختیار سے باہر ہونے والے جرم پر کسی فرد کا پاسپورٹ منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایسے عناصر کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کے ساتھ ساتھ تفصیلات بھی فراہم کی جائیں جن کے ذریعے بھیجے گئے افراد نے بیرون ملک جا کر بھیک مانگنے اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے پاکستان کی تذلیل کی ۔ کمیٹی نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ایران، عراق اور عمان کے ویزے پر جانے والے پانچ ہزار ڈی پورٹیوں کا الگ الگ ڈیٹا بھی طلب کیا۔

وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی (ایف آئی اے) اور بیرون ملک پاکستانی مشنز سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے اب تک 58,000 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے اور ان میں سے 5,600 کو سعودی عرب، عمان اور قطر سے بھیک مانگنے کی وجہ سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے ۔ وزارت نے ڈی پورٹ ہونے والوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں ڈال دیے ہیں۔

کمیٹی نے ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن سے گزشتہ 3 ماہ کے دوران ڈی پورٹیز کی سہولت کے لیے جاری کیے گئے 24000 آرڈرز کے حوالے سے رپورٹ طلب کی۔ ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن مصطفیٰ جمال قاضی نے کمیٹی کو سعودی عرب، ایران اور عراق جانے والے پاکستانیوں میں زائد قیام کے بڑھتے ہوئے رجحان سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایران سے تقریباً 34,000 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا اور تقریباً 50,000 کو عراق سے ڈی پورٹ کیا گیا۔ انہوں نے یورپی ممالک میں پاکستانیوں کی جانب سے سیاسی پناہ حاصل کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس یا اس سے زائد عرصے میں تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار افراد نے یورپی ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواست کی ۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے