کراچی ایئرپورٹ دہشت گرد دھماکہ غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے ہوا، ابتدائی رپورٹ

کراچی ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے خودکش بم دھماکے کی ابتدائی رپورٹ سی ٹی ڈی نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دی ہے۔
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ خودکش دھماکہ پاکستان اور چین کے تعلقات خراب کرنے کی سازش ہے اور یہ ملک دشمن غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے کیا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے اتوار کو ہونے والے دھماکے کے متعلق سی ٹی ڈی نے کہا ہے کہ خودکش دھماکے میں بلوچستان لبریشن آرمی ملوث تھی۔
مزید پڑھیں
رپورٹ کے مطابق دھماکے میں دو چینی باشندے لی جون اور سن ہوازین سمیت 3 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 12 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
سی ٹی ڈی نے یہ بھی کہا ہے کہ نامعلوم دہشت گرد نے اپنی گاڑی کو چینی باشندوں کی کانوائے کی گاڑیوں کے قریب لا کر بلاسٹ کیا۔
خودکش دھماکہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آؤٹر ٹرمینل کے قریب سول ایوی ایشن کے گارڈ روم کے سامنے ہوا تھا اور اس میں 15 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پولیس دھماکے کی آواز سن کر موقع پر پہنچی تو دیکھا کہ پولیس، رینجرز و دیگر افراد زخمی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔
خودکش دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
وااقعے کا مقدمہ تھانہ ایئرپورٹ کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
مقدمہ سی ٹی ڈی میں قتل، اقدام قتل، حملہ، دھماکہ خیز مواد، دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ 6 اکتوبر کو کراچی ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں چینی کانوائے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
کراچی میں چینی قونصل خانے نے کہا تھا کہ پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ اس حملے کی جامع تحقیقات کریں اور ملوث افراد کو سزا دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں مختلف منصوبوں میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کا دورہ کیا اور پاکستان میں تعینات چینی سفیر جیانگ زیڈانگ سے ملاقات میں حملے پر اظہار تعزیت کیا تھا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اپنی ذاتی نگرانی میں واقعے کی تحقیقات کریں گے اور غیر ملکیوں کے لیے سکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے