پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری، نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں یونین کونسلز کی نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کردیا ہے، جس کے تحت سات مرحلوں پر مشتمل یہ عمل 10 اگست 2026 تک مکمل کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کو صوبے میں طویل عرصے سے التوا کا شکار بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حلقہ بندیاں آئین کے آرٹیکل 222 (بی) اور الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کی جائیں گی۔ شیڈول کے مطابق حلقہ بندیوں سے متعلق تمام انتظامی انتظامات 16 اپریل تک مکمل کیے جائیں گے، جس کے بعد 20 اپریل سے 21 مئی تک حلقوں کی ابتدائی فہرستیں تیار کی جائیں گی۔ابتدائی فہرستیں 25 مئی کو شائع ہوں گی، جبکہ ان پر 26 مئی سے 23 جون تک اعتراضات جمع کرائے جاسکیں گے۔ الیکشن کمیشن 22 جولائی تک تمام اعتراضات نمٹائے گا، جس کے بعد 4 اگست کو حتمی فیصلے حلقہ بندی کمیٹیوں کو بھجوائے جائیں گے۔حلقہ بندیوں کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد حتمی فہرست 10 اگست 2026 کو شائع کردی جائے گی۔الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے عمل کو شفاف اور بلا تعطل یقینی بنانے کے لیے پنجاب میں انتظامی حدود میں ہر قسم کی تبدیلیوں پر فوری پابندی بھی عائد کردی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ٹاؤن کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیز اور تحصیل کونسلز سمیت تمام موجودہ انتظامی یونٹس کی حدود منجمد کردی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد پٹواری حلقوں اور ریونیو اسٹیٹس کی حدود میں تبدیلیوں کے باعث حلقہ بندیوں کے عمل میں ممکنہ رکاوٹوں کو روکنا ہے۔واضح رہے کہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی مدت دسمبر 2021 میں مکمل ہوگئی تھی، جس کے بعد آئین کے تحت 120 دن میں نئے انتخابات کرانا ضروری تھے، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی قوانین میں بار بار ترامیم کے باعث انتخابی عمل تاخیر کا شکار رہا۔گزشتہ برس اکتوبر میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد الیکشن کمیشن نے سابقہ شیڈول واپس لے لیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد 2026 کی دوسری سہ ماہی سے قبل انتخابات ممکن نہیں ہوں گے۔نئی حلقہ بندیوں کے شیڈول کے اجرا سے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا عمل دوبارہ آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہوئی ہے، جس کے بعد صوبے میں مقامی حکومتوں کے قیام کی امیدیں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے