وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ روس ، صدر پوتن سے ملاقات ہوگی
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا 30 نومبر سے روس کا چار روزہ سرکاری دورہ متوقع ہے، جس کے دوران ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اہم ملاقات ہوگی۔ مجوزہ دورے میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، سفارتی، تجارتی، اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات متوقع ہیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورت حال، اقتصادی شراکت داری اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ملاقات میں پاکستان اور روس کے درمیان تجارت بڑھانے، توانائی کے شعبے میں تعاون، تیل و گیس کی فراہمی، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں پر بات چیت کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی اور جدید کاری میں روسی تعاون، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زراعت اور غذائی تحفظ جیسے امور بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بینکاری اور مالیاتی لین دین میں سہولتیں پیدا کرنے، تجارتی ادائیگیوں کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل حل کرنے پر بھی گفتگو متوقع ہے۔علاقائی اور بین الاقوامی امور میں افغانستان کی صورت حال، علاقائی سلامتی، جنوبی اور وسطی ایشیا میں استحکام اور مختلف عالمی فورمز پر پاکستان اور روس کے درمیان تعاون بھی مذاکرات کا حصہ بن سکتا ہے۔پاکستان روس بزنس فورم کا امکانوزیراعظم کے دورے کے موقع پر پاکستان روس بزنس فورم منعقد کیے جانے کا بھی امکان ہے، جس میں پاکستان سے تقریباً 100 کاروباری شخصیات اور مختلف کمپنیوں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔فورم کے دوران پاکستانی اور روسی کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست کاروباری ملاقاتیں، یعنی بزنس ٹو بزنس (B2B) مذاکرات بھی متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد تجارتی شراکت داری، مشترکہ سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کو فروغ دینا ہوگا۔پاکستانی کاروباری وفد میں ٹیکسٹائل، زراعت، خوراک، ادویات، صنعتی مصنوعات اور توانائی سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ کمپنیوں کی نمائندگی متوقع ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے روس کے سابقہ مجوزہ دورے کے موقع پر بھی بڑے کاروباری وفد اور پاکستان روس بزنس فورم کے انعقاد کا پروگرام زیرِ غور تھا، تاہم وہ دورہ ملتوی ہوگیا تھا۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ نئے دورے میں سابقہ پروگرام کے اہم حصوں کو برقرار رکھا جائے گا۔پاکستانی طلبہ سے ملاقات اور سینٹ پیٹرزبرگ کا دورہمجوزہ دورے کے دوران روس میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ سے وزیراعظم کی خصوصی ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر طلبہ کے تعلیمی تجربات، مسائل اور پاکستان و روس کے درمیان تعلیمی تعاون پر بات چیت ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف کے روس کے تاریخی اور ثقافتی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک روزہ دورے کا امکان بھی ہے۔پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں اور اقتصادی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک تجارت، توانائی، صنعتی تعاون، تعلیم اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا متوقع دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دوطرفہ سیاسی روابط مضبوط بنانے اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔تاہم دورے کی حتمی تاریخوں، پاکستانی وفد کی مکمل تشکیل اور ملاقاتوں کے تفصیلی پروگرام کا باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں