مودی سرکار کا انتخابی نظام عالمی تنقید کی زد میں
ووٹر فہرستوں پر سوالات، بھارت میں احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہنئی دہلی: مودی حکومت کے دور میں انتخابی عمل اور ووٹر فہرستوں سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے بعد بھارت میں احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبات میں شدت آنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔عالمی جریدے دی اسٹریٹس ٹائمز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے کانگریس کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ہانگ کانگ کے جریدے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور شہریوں کو پولیس نے ہراساں کرنے کے بعد حراست میں لے لیا۔رپورٹس کے مطابق انتخابی عمل اور ووٹر فہرستوں سے متعلق تنازع کے باعث بھارت میں انتخابی نظام کی شفافیت پر بحث تیز ہوگئی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔داخلی امور کے ماہرین کے مطابق بھارت میں جاری انتخابی تنازع نے ملک کے انتخابی نظام اور ووٹر فہرستوں کی درستگی سے متعلق نئے سوالات پیدا کیے ہیں، تاہم ان اعتراضات اور الزامات پر متعلقہ بھارتی حکام کا مؤقف بھی اہم ہوگا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں