ایران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ، فوجی تیاری مکمل ہونے کا اعلان
تہران: ایران کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے فوجی تیاریاں مکمل ہیں۔ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈی نیٹر ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے پیر کو آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کا مغربی حصہ، خود آبنائے ہرمز اور خلیج فارس اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے اور شمالی بحرِ ہند پر ایرانی فوج کی بحریہ کا کنٹرول ہے۔ سیاری کے مطابق ایرانی افواج بحیرۂ عمان کے شمالی حصے اور آبنائے ہرمز کے مشرق میں بھی بھرپور طاقت کے ساتھ موجود ہیں اور کسی کو وہاں سے گزرنے نہیں دیں گی۔ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ہر جنگ فوج کے لیے نئے تجربات اور اسباق لے کر آتی ہے، جن کی بنیاد پر فوج اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے۔ ان کے بقول ایرانی فوج نے اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرلی ہے اور انہیں دور کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیار ہے اور مستقبل میں سامنے آنے والے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔آبنائے ہرمز اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس آبی راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کو اپنی شرائط اور امریکی فوجی دباؤ میں کمی سے مشروط کیا ہے۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ مذاکرات، جنگ بندی اور اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں