سلمان خان بھی اے آئی جعلی ویڈیوز کا نشانہ بن گئ

ممبئی: بالی ووڈ سپراسٹار سلمان خان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز اور آوازوں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ریئلٹی شو ’بگ باس‘ کی میزبانی کے دوران سوشل میڈیا ٹرولنگ اور آن لائن دنیا میں بڑھتے ہوئے خطرناک رجحانات پر گفتگو کرتے ہوئے سلمان خان نے بتایا کہ وہ خود بھی اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کا نشانہ بن چکے ہیں۔اداکار نے کہا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی اس حد تک ترقی کرچکی ہے کہ کسی شخص کی آواز کلون کرنے یا ویڈیو میں اس انداز سے تبدیلی کرنے کی صلاحیت موجود ہے کہ اصل اور جعلی مواد میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق کسی شخص کی کہی ہوئی بات کو تبدیل کرکے اس کے منہ سے گالی تک دلوائی جاسکتی ہے۔سلمان خان نے بتایا کہ ان کی اپنی ایسی ویڈیوز بھی بنائی جاچکی ہیں جن میں اے آئی اور وائس ڈبنگ کے ذریعے اصل مواد کو تبدیل کیا گیا۔ ان کے بقول یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ کوئی شخص محض ویڈیو دیکھ کر یہ سمجھ سکتا ہے کہ متعلقہ شخصیت نے واقعی وہ بات کہی یا وہ کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص لاعلمی میں ایسی جعلی ویڈیو کو حقیقت سمجھ کر آگے بڑھا دے تو یہ ایک الگ معاملہ ہے، تاہم جو لوگ حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود جان بوجھ کر ایسا مواد تیار کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔سلمان خان نے واضح کیا کہ ایسے افراد کو جیل بھیجا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جب تک ایک آدھ شخص کو جیل نہیں بھیجا جائے گا، اس قسم کا سلسلہ رکنے والا نہیں۔ انہوں نے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سخت قانون سازی اور سوشل میڈیا پر مؤثر نگرانی و سنسرشپ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اداکار نے اس مسئلے کو صرف مشہور شخصیات تک محدود نہ رکھنے کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ معروف افراد کے پاس وسائل موجود ہوتے ہیں اور وہ سائبر سیل سے رابطہ کرکے جعلی ویڈیوز بنانے والوں تک پہنچنے کی کوشش کرسکتے ہیں، لیکن عام لوگوں اور ان کے خاندانوں کے پاس عموماً ایسی سہولت اور رسائی نہیں ہوتی۔سلمان خان کے مطابق عام شہریوں کو نشانہ بنانے والا جعلی مواد اور منفی پروپیگنڈا ان کی زندگیوں پر انتہائی سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب کرسکتا ہے

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے