پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے، وفاقی وزیر اطلاعات

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی تشکیلیں پاکستان آ رہی ہیں، دہشتگرد ڈالرز کے عوض کارروائیاں کرتے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت دہشتگردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے ڈی آئی خان امن میلہ چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری شہید ہوئے جبکہ دہشتگردوں نے ریسکیو اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کارروائیوں کے بعد اپنے ساتھیوں کی تصاویر اور فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں۔ ڈی آئی خان حملے میں ایک دہشتگرد کی تصویر فوری طور پر سسٹم میں ڈال کر نادرا اور دیگر ریکارڈ سے جانچ کی گئی، تاہم اس کی کوئی شناخت نہیں ملی۔ طلال چودھری کے مطابق اوپن سورس معلومات سے معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا۔وزیر مملکت داخلہ نے دعویٰ کیا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی تشکیلیں پاکستان آتی ہیں اور ان میں سے تقریباً 70 فیصد دہشتگرد افغانستان کے رہائشی ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے ڈوزیئرز، مذاکرات اور دیگر ذرائع سمیت ہر طریقے سے افغان حکام سے رابطہ کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارا ہمسایہ اپنا وطیرہ بدلنے کو تیار نہیں۔‘‘طلال چودھری نے الزام عائد کیا کہ دہشتگرد ڈالرز کے عوض کارروائیاں کرتے ہیں اور دہشتگردی کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔ ان کے بقول افغانستان اس معاملے میں ایک ’’سپر پراکسی‘‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ افغانستان اور دہشتگردوں کا کھل کر نام کیوں نہیں لیا جاتا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ڈی آئی خان جانے اور پریس کانفرنس کرنے کے باوجود افغانستان کا نام کیوں نہیں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزرا اور حکومتی نمائندے دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے گھروں میں گئے جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بھی واقعے کے بعد ڈی آئی خان پہنچے، تاہم احتجاج کرنے والے افراد وہاں نہیں آئے۔طلال چودھری نے خیبرپختونخوا کی سیاسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 14 برس کے دوران صوبائی سیاسی قیادت سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑی نہیں ہوئی اور صوبائی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے۔ ان کے مطابق آج بھی خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے درکار سہولتیں حاصل نہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو نہ قیادت دی گئی اور نہ مطلوبہ وسائل فراہم کیے گئے، جبکہ سی ٹی ڈی، بلٹ پروف گاڑیوں اور جدید ہتھیاروں کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں لڑی جاسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کو فراہم کی گئی بلٹ پروف گاڑیاں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے واپس کردی گئیں، جبکہ پولیس ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے پولیس کے اختیارات واپس لینے کی کوشش کی گئی ہے۔طلال چودھری کے مطابق سکیورٹی معاملات پر ہونے والے اجلاسوں میں صوبائی حکومت کے نمائندے شریک نہیں ہوتے، تاہم این ایف سی کے پیسے لینے کے لیے آجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر اتفاق رائے موجود تھا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان پر عملدرآمد ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا سے 800 ارب روپے کا حساب مانگا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی قیادت کی نااہلی کے باعث صوبہ بدامنی کا شکار ہے اور پاکستان میں بدامنی کی صورتحال میں صوبائی حکومت کی ناکامی کا عنصر بھی شامل ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت خراب ہے اور وہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ صوبے میں تحریک انصاف کی قیادت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ’’بی ٹیم‘‘ ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دے چکی ہے، جبکہ ان کے بقول صرف پی ٹی آئی کو دہشتگرد کچھ نہیں کہتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسا کیوں ہے اور الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشتگردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی موجودگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکلوں تک پر نمبر پلیٹ موجود نہیں۔ ان کا الزام تھا کہ پی ٹی آئی صوبے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی اور یہی گاڑیاں دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔عطا تارڑ کے مطابق گاڑیوں کی رجسٹریشن سے صوبے میں اربوں روپے جمع ہوسکتے تھے، تاہم رجسٹریشن نہیں کی گئی تاکہ دہشتگردوں کا سراغ نہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی بھی قائم نہیں کی گئی اور نہ ہی اسے بنانے کی خواہش نظر آتی ہے۔وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ ڈی آئی خان میں شہید ہونے والے بچوں کا خون وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ہاتھوں پر تلاش کیا جائے؟ ان کا کہنا تھا کہ سیاست اپنی جگہ، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف ساڑھے 12 سال سے زائد عرصے تک حکومت کرچکی ہے، لیکن صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے صحت کے شعبے میں کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بتانے کا مطالبہ بھی کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق وزارت داخلہ نے خیبرپختونخوا پولیس کے لیے جدید گاڑیاں فراہم کرنے کی پیشکش کی، تاہم صوبائی حکومت نے یہ گاڑیاں لینے سے انکار کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ پی ٹی آئی قیادت نے خیبرپختونخوا پولیس کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کا پختہ عزم ہے کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے سکیورٹی اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے