گنج پن کی بیماری کے علاج میں بڑی پیش رفت، جوڑوں کی دوا سے بال دوبارہ اگنے کی امید

کراچی: دنیا کی تقریباً 2 فیصد آبادی ایلوپیشیا ایریاٹا نامی بیماری سے متاثر ہے، جس میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے بالوں کی جڑوں پر حملہ کرتا ہے اور شدید بال جھڑنے کا سبب بنتا ہے۔ یہ بیماری صرف جسمانی طور پر متاثر نہیں کرتی بلکہ متاثرہ افراد کی ذہنی اور نفسیاتی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ایلوپیشیا ایریاٹا میں بالوں کے فولیکلز مستقل طور پر تباہ نہیں ہوتے، جس کے باعث بعض صورتوں میں بال دوبارہ اگ سکتے ہیں۔ تاہم بیماری کے علاج میں بنیادی چیلنج مدافعتی نظام کے اس غیر معمولی ردعمل کو روکنا ہے۔خاص طور پر نوعمر افراد کے لیے مؤثر علاج کے محدود آپشنز موجود ہیں جبکہ دستیاب علاج بھی ہر مریض میں یکساں نتائج نہیں دیتے۔اب ایک نئی تحقیق میں Upadacitinib نامی دوا کو ایلوپیشیا ایریاٹا کے ممکنہ علاج کے طور پر آزمایا گیا ہے۔ یہ دوا سوزش اور جوڑوں کے درد سے متعلق بعض بیماریوں کے علاج میں استعمال کی جاتی ہے۔محققین نے دوا کی افادیت جانچنے کے لیے بیک وقت دو فیز تھری کلینیکل ٹرائلز کیے۔ تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما ڈرماٹولوجی میں شائع ہوئے ہیں۔بین الاقوامی محققین کی ٹیم کے مطابق کلینیکل ٹرائلز کے نتائج نے امید پیدا کی ہے کہ Upadacitinib مستقبل میں ایلوپیشیا ایریاٹا کے علاج کے لیے ایک مؤثر آپشن ثابت ہوسکتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ اگر مزید شواہد سے دوا کی افادیت اور حفاظت ثابت ہوجاتی ہے تو اس سے دنیا بھر میں ایلوپیشیا ایریاٹا سے متاثرہ لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، خصوصاً ان مریضوں کو جن پر موجودہ علاج مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔تاہم محققین کے مطابق دوا کے وسیع پیمانے پر استعمال سے قبل اس کی افادیت اور حفاظت کے حوالے سے مزید شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے