تخملنگا صحت اور عمر بڑھنے کے اثرات کو کم کرتے ہیں:ماہرین
ویب ڈیسک:تخمِ بالنگا کو اس کے غذائی اور طبی خواص کے باعث صحت کے لیے مفید بیج قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اسے زیادہ تر مشروبات اور فالودے کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔تخمِ بالنگا کے حوالے سے دستیاب معلومات کے مطابق ماضی میں ان بیجوں کو بعض ادوار میں بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے، جبکہ توانائی فراہم کرنے کی خصوصیات کے باعث جنگ سے قبل سپاہیوں کی جانب سے بھی اسے استعمال کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔غذائی اعتبار سے 28 گرام تخمِ بالنگا میں تقریباً 137 کیلوریز، 12 گرام کاربوہائیڈریٹس، 4.5 گرام چکنائی اور 10.5 گرام فائبر پایا جاتا ہے، جبکہ اس میں میگنیز، فاسفورس، کیلشیم، مختلف وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس بھی شامل ہوتے ہیں۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق تخمِ بالنگا میں فینولک ایسڈ سمیت قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جسم میں فری ریڈیکلز کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کے باعث یہ جلد کی صحت اور عمر بڑھنے کے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔تخمِ بالنگا میں فائبر کی وافر مقدار اسے نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید بناتی ہے۔ مختلف طبی تحقیقات میں اس کے استعمال کو معدے میں صحت بخش بیکٹیریا کی افزائش، آنتوں کی صحت بہتر بنانے اور مدافعتی نظام کو تقویت دینے سے منسلک کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق تخمِ بالنگا کولیسٹرول کم کرنے اور بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں بھی معاون ہوسکتا ہے، جبکہ اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ دل کی صحت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود الفا لینولک ایسڈ اور فائبر جسم میں چربی کے جمع ہونے اور انسولین سے مزاحمت کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتے ہیں، جس کے باعث اسے ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے بھی مفید قرار دیا جاتا ہے۔’جرنل آف اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ ریسرچ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق تخمِ بالنگا ورزش کرنے والے افراد کے لیے بھی مفید ہوسکتا ہے، کیونکہ اس میں موجود غذائی اجزاء توانائی فراہم کرنے اور میٹابولزم کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔تخمِ بالنگا کو جسم کو ٹھنڈا رکھنے اور گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود کیلشیم ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے اہم ہے، جبکہ بورون سمیت دیگر اجزاء کیلشیم، فاسفورس اور میگنیز کے جذب میں مدد دیتے ہیں۔رپورٹس میں تخمِ بالنگا کے دیگر ممکنہ فوائد میں پٹھوں اور ہڈیوں کی مضبوطی، آرتھرائٹس کے درد میں کمی، نیند کو بہتر بنانے میں معاونت اور منہ و دانتوں کی صحت برقرار رکھنے میں مدد شامل کی گئی ہے۔ تاہم کسی بھی غذائی چیز کو علاج کا متبادل سمجھنے کے بجائے متوازن غذا اور طبی ماہرین کے مشورے کے ساتھ استعمال کرنا بہتر ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں