پیٹرول سستا کرائیں گے، عوام کو نکلنا ہوگا: حافظ نعیم
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے بعد اب پیٹرول کی قیمتیں بھی کم کرائی جائیں گی، تاہم اپنے حق کے حصول کے لیے عوام کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومتی طبقہ اپنی نااہلیوں کا بوجھ عوام پر ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے مختلف شعبوں میں 1100 ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے، صنعتیں مشکلات کا شکار ہیں جبکہ عام آدمی پر لیوی، فیول ایڈجسٹمنٹ، ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے سے بھی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ ایک مخصوص طبقے کو سالانہ 17 ارب ڈالر کی مراعات دی جا رہی ہیں۔ ان میں سرکاری مراعات حاصل کرنے والے افراد اور آئی پی پیز بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت آئی پی پیز سے ٹیکس وصول نہیں کر سکتی جبکہ عام آدمی پر مسلسل بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ڈیزل اور پیٹرول مہنگا ہونے کا براہ راست اثر روزمرہ استعمال کی ہر چیز کی قیمت پر پڑتا ہے۔ اگر عوام کو آئین کے مطابق تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولتیں میسر ہوتیں تو بھی صورتحال قابلِ قبول ہوتی، مگر عوام کو نہ مناسب صحت کی سہولتیں مل رہی ہیں اور نہ تعلیم کی۔ ان کے مطابق تمام صوبے امن کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن امن کی صورتحال بھی بہتر نہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیرے اور نام نہاد سیاستدان ملک کے وسائل پر قابض ہیں۔ اگر عام آدمی کو معلوم نہیں ہوگا کہ کس طبقے کو کتنی مراعات دی جا رہی ہیں تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث لوگ بیرون ملک جانے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں، جس سے عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بے جا ٹیکسز کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو عوام میں مایوسی مزید بڑھے گی۔ پاکستانی قوم بجلی پیدا کرنے سے زیادہ رقم کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال جماعت اسلامی کی تحریک کے نتیجے میں بجلی کے بلوں میں کمی ہوئی، تاہم پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اس وقت بھی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 گھنٹے سے زائد ہے اور عوام کو معلوم نہیں کہ بجلی کے پیسے کہاں جا رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیٹرول پر لیوی اس وعدے کے ساتھ عائد کی گئی تھی کہ ریفائنریز کو بہتر بنایا جائے گا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1500 ارب روپے کا ڈاکا مارا گیا ہے اور عام آدمی کے مسائل کے حل کے لیے عوام کو باہر نکلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوئی، اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی کم کرائی جائیں گی۔ روٹی 10 روپے کی ہونی چاہیے لیکن 20 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ہر حکومتی عہدیدار، خواہ جرنیل ہو، بیوروکریٹ، ایم این اے یا وزیر، 1300 سی سی سے زیادہ گاڑی استعمال نہ کرے۔ انہوں نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدنے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب پہلے سے جہاز موجود تھا تو نیا جہاز خریدنے کی ضرورت کیا تھی، اس کا بوجھ بھی عوام پر پڑ رہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیٹرول کے ہر لیٹر پر حکومت 130 روپے وصول کر رہی ہے اور موٹر سائیکل پر پورا خاندان سفر کرنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ ہر نوجوان اور پاکستانی کا مسئلہ ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی گورنر ہاؤسز اور ایوانِ وزیراعلیٰ کے سامنے احتجاج کرے گی۔ ان کے مطابق گزشتہ احتجاج میں 500 سے زائد مقامات پر پرامن مظاہرے کیے گئے تھے اور اس مرتبہ بھی احتجاج پرامن ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ احتجاج کل سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا اور اسے ختم کرنے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ پیٹرول، بجلی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کی جائیں۔ مختلف مقامات سے احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس تک پہنچا جائے گا۔ انہوں نے گڈز ٹرانسپورٹرز کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی 225 روپے فی لیٹر قیمت مناسب ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ احتجاج میں 500 سے زائد مقامات پر مظاہروں نے حکومت کو جماعت اسلامی کی اسٹریٹ پاور کا اندازہ کرا دیا تھا، اس لیے حکومت احتجاج میں رکاوٹ نہ ڈالے۔حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے احتجاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو حالات مختلف رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول جماعت اسلامی میں یہ سوچ موجود ہے کہ عوامی حقوق کی تحریک کو حکومت گراؤ تحریک میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ پہلے بھی زیادتیاں ہوئی ہیں، اگر اب بھی ایسا ہوا تو تحریک کا رخ تبدیل ہوسکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں