وزن کم کرنے والی ادویات نشے کی طلب بھی گھٹا سکتی ہیں
لاہور:وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی معروف ادویات اوزیمپک اور ویگووی سے متعلق نئی سائنسی تحقیق میں ان کے ممکنہ ایک اور فائدے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ادویات نہ صرف بھوک اور وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ الکوحل اور بعض دیگر نشہ آور اشیا کے استعمال کی خواہش بھی کم کر سکتی ہیں۔یہ ادویات جی ایل پی-1 ایگنسٹس کہلاتی ہیں اور ابتدائی طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھیں۔ یہ جسم میں جی ایل پی-1 ہارمون کے اثرات کی نقل کرتے ہوئے انسولین کے اخراج کو بڑھاتی ہیں، ہاضمہ سست کرتی ہیں اور پیٹ بھرنے کا احساس زیادہ دیر تک برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ان ادویات کے استعمال سے کئی افراد میں نمایاں وزن کم ہونے کے اثرات سامنے آئے ہیں، تاہم سائنس دان اب دماغ کے ریوارڈ سسٹم پر ان کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔تحقیق کے مطابق جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والے بعض افراد میں الکوحل کے استعمال میں کمی دیکھی گئی ہے۔ جانوروں پر کیے گئے ابتدائی تجربات میں بھی ان ادویات سے کوکین، ایمفیٹامین، افیون اور نکوٹین کے استعمال میں کمی کے امکانات سامنے آئے ہیں۔ماہرین کے مطابق جب انسان کسی پسندیدہ غذا یا نشہ آور چیز کے بارے میں سوچتا ہے تو دماغ میں پیدا ہونے والی طلب اسے اس چیز کے حصول اور استعمال کی جانب راغب کرتی ہے۔ یہی نظام ضرورت سے زیادہ فعال ہوجائے تو موٹاپے، الکوحل کے غلط استعمال اور دیگر نشوں جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے نشے کی طلب کم کرنے کے ممکنہ اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور انہیں نشے کے علاج کے طور پر استعمال کرنے کے حوالے سے ابھی مزید شواہد درکار ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں