درختوں پر جامنوں کی بھر مار آنے والے قحط کی نشانی ہے؟

گرمیوں کے موسم میں جب درخت گہرے جامنی رنگ کے رسیلے جامنوں سے لَد جاتے ہیں اور مارکیٹس میں ان کی بھرمار ہو جاتی ہے، تو جہاں ایک طرف یہ پھل مٹھاس اور فرحت کا احساس لاتا ہے، وہاں دوسری طرف یہ اپنے ساتھ ایک قدیم بحث بھی چھیڑ دیتا ہے کہ کیا درختوں پر جامنوں کی بہتات مستقبل میں قحط کا اعلان ہے؟

قدیم زمانے سے بزرگوں کی روایات اور لوک داستانوں میں جامن کی غیر معمولی پیداوار کو ایک گہرا اور تشویشناک اشارہ مانا جاتا رہا ہے۔ اجداد کی حکمت، جدید نباتیات اور موسمیاتی حقائق کے درمیان یہ تعلق جتنا دلچسپ ہے، اتنا ہی فکر انگیز بھی ہے۔

قدیم عقیدہ اور عوامی متھ

دنیا کے کئی حصوں میں، خاص طور پر برصغیر کے دیہی علاقوں میں، یہ روایتی عقیدہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے کہ اگر کسی سال جامن کے درختوں پر معمول سے زیادہ پھل آئے اور وہ کثرت سے زمین پر گرنے لگیں، تو یہ آنے والے شدید قحط یا خشک سالی کی قبل از وقت تنبیہ ہوتی ہے۔

ان بزرگوں کا کہنا ہے کہ قدرت انسانوں اور جانوروں کو آنے والے کٹھن وقت سے پہلے ہی ایک ایسی خوراک وافر مقدار میں فراہم کر دیتی ہے جو سخت جان ہوتی ہے اور جسے مشکل حالات میں بقا کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اس دانش کے پیچھے یہ نظریہ کارفرما رہا ہے کہ درخت زمین کے اندرونی حالات کو بھانپ کر مستقبل کا احوال بتا دیتے ہیں۔

سائنسی حقیقت کیا ہے؟

جب جدید سائنس کی نظر سے اس رجحان کا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ روایتی مشاہدہ تو درست تھا، لیکن اس کی وجہ وہ نہیں جو عام طور پر سمجھی جاتی ہے۔ سائنسی حقیقت مستقبل کی پیشگوئی کے بجائے ماضی اور حال کے موسم پر منحصر ہے۔

جامن کے درخت پر بہار کے آخر میں پھول آتے ہیں۔ اگر اس دوران ہلکی سی بھی بے وقت بارش ہو جائے، تو پھول جھڑ جاتے ہیں اور زرِ گل ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر قبل از مون سون کا موسم انتہائی خشک اور گرم رہے، تو پولینیشن کا عمل سو فیصد کامیاب ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں درختوں پر بمپر فصل اترتی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے