اسپانٹک چوٹی سے پاکستانی کوہ پیما کی میت 10 روز بعد برآمد

گلگت: پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت گلگت بلتستان کی 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سے تقریباً 10 روز بعد برآمد کرلی گئی۔34 سالہ اسما مشتاق 20 اگست کو اسپانٹک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران شدید بلند مقام کی بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ایاز شگری کے مطابق شگر سے تعلق رکھنے والے بلند پہاڑی علاقوں میں کوہ پیمائی کے ماہرین پر مشتمل 5 رکنی ٹیم نے جمعے کے روز اسما مشتاق کی میت کی تلاش اور واپسی کے لیے نیا آپریشن شروع کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی میت کی واپسی کے لیے کوششیں کی گئی تھیں، تاہم شدید برفباری اور خراب موسمی حالات کے باعث یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔ایاز شگری کے مطابق نئی ریسکیو ٹیم میں محبوب، حسین علی، مظاہر حسین، محبوب علی، محمد عابدین اور عباس علی شامل تھے، جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آپریشن مکمل کیا۔ ٹیم کے تمام ارکان کا تعلق شگر کے علاقے ارندو سے تھا۔ریسکیو ٹیم نے پیر کی صبح 3 بجے کارروائی شروع کی اور تقریباً 8 گھنٹے کی مسلسل تلاش کے بعد صبح 11 بجے اسپانٹک چوٹی کے کیمپ 3 کے قریب سے اسما مشتاق کی میت تلاش کرلی۔ یہ مقام تقریباً 6 ہزار 250 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ایاز شگری نے بتایا کہ میت کو پیر ہی کے روز کیمپ 2 تک لانے کا منصوبہ ہے، جس کے بعد بیس کیمپ پہنچنے پر پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے میت کو اسکردو منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔اسما مشتاق 5 رکنی پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں کی اس مہم کا حصہ تھیں، جس نے اسپانٹک چوٹی سر کی تھی۔ ان کے ہمراہ کوہ پیما زونی اسلم، زبا شگری، شما اور سوہانا بھی اس مہم میں شامل تھیں۔الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اسما مشتاق نے کامیابی سے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کی تھی اور اس وقت ان کی صحت بھی بہتر تھی، تاہم واپسی کے دوران تقریباً 6 ہزار 400 میٹر کی بلندی پر انہیں شدید طبی ہنگامی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ماہرین کے مطابق 6 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی سے کسی کوہ پیما کی میت واپس لانا انتہائی خطرناک اور مشکل کام ہوتا ہے۔ شدید برفباری، دشوار گزار راستے اور خراب موسمی حالات ریسکیو آپریشن کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے