نیند کی کمی صحت کے لیے خطرناک قرار

ماہرین صحت کے مطابق نیند صرف جسم کو آرام دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ مجموعی صحت اور روزمرہ کارکردگی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ مسلسل کم یا غیر معیاری نیند لینے سے انسان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی کے باعث دن کے وقت تھکن، سستی، چڑچڑاپن اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے، جبکہ طویل عرصے تک مناسب نیند نہ لینے سے صحت کے دیگر مسائل کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔صحت مند بالغ افراد کے لیے عموماً 7 سے 9 گھنٹے کی معیاری نیند کو بہتر سمجھا جاتا ہے، تاہم ہر فرد کی نیند کی ضرورت عمر اور معمولات کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق سونے اور جاگنے کا وقت روزانہ تقریباً ایک جیسا رکھنا نیند کے معمول کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سونے سے قبل موبائل فون، ٹی وی اور دیگر اسکرینز کا استعمال کم کرنا بھی مفید ہے۔رات کے وقت چائے، کافی اور دیگر کیفین والے مشروبات کا زیادہ استعمال نیند میں خلل ڈال سکتا ہے، اس لیے سونے سے چند گھنٹے قبل ان سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دن کے وقت ہلکی پھلکی ورزش اور جسمانی سرگرمی بھی نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، تاہم سونے سے بالکل پہلے سخت ورزش سے گریز کرنا بہتر ہے۔اگر کسی شخص کو مسلسل نیند آنے میں دشواری، بار بار آنکھ کھلنے یا دن بھر غیر معمولی غنودگی کا سامنا ہو تو اسے اس مسئلے کو نظر انداز کرنے کے بجائے ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا چاہیے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے