پیٹرول پر موجود لیوی جنگی دور سے بھی کم، کمی ممکن نہیں: علی پرویز ملک

اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرول پر عائد موجودہ لیوی جنگی دور میں لگائی گئی لیوی سے بھی کم ہے، جبکہ آئی ایم ایف لیوی میں کمی پر رضامند نہیں ہوگا، البتہ متبادل ریونیو کا ذریعہ ملنے کی صورت میں اس پر غور ممکن ہو سکتا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار اوگرا کو دے دیا ہے، جبکہ قیمتوں کا طریقہ کار اوگرا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور شفافیت کے لیے اسے اردو زبان میں بھی شائع کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈی کی سات روزہ اوسط (Rolling Average) کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں، جس میں حکومتی ٹیکسز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مقررہ مارجن بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ قیمتوں کے نظام سے مصنوعی قلت پیدا کرنے اور شارٹ ٹرم منافع کمانے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔

قائم مقام چیئرمین اوگرا نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں کم یا زیادہ ہوں تو اس کے اثرات سات روز کے اندر مقامی قیمتوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پیٹرول پر کسٹم ڈیوٹی 18 روپے 11 پیسے فی لیٹر ہے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کو عوام کے لیے غیر یقینی صورتحال قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں محدود اضافے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ کیسے ہوا۔

اس پر وزیر پیٹرولیم نے وضاحت کی کہ مقامی قیمتوں کا تعین خام تیل کے بجائے تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے یہ بھی بتایا کہ چیئرمین اوگرا کی تعیناتی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے، کیونکہ پہلے مرحلے میں موزوں امیدوار دستیاب نہیں ہو سکا تھا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے