انصاف بالائے طاق ،مودی سرکار کی یاسین ملک کو سزائے موت دلوانے کی متنازعہ کوشش ،اصل حقائق کیا ہیں ؟

مودی سرکار نے حریت پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کو سزائے موت دلوانے کیلئے پھر سے کوشش شروع کر دی ہےجس میں انصاف کو بالائے طاق رکھنے پر مودی سرکار پر سوالات اٹھ رہے ہیں 
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ اور علیحدگی پسند کشمیری رہنما یاسین ملک 34 سال پرانے جعلی کیس میں پہلے ہی بھارت میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، مودی سرکار نے اسی کیس میں اُن کے خلاف سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔
اس مقدمے میں یاسمین ملک پر25جنوری 1990   میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس میں بھارتی فضائیہ کے چار اہلکار قتل اور 22 زخمی ہوئے تھے ۔ سی بی آئی کی رپورٹ کے مطابق حملے میں یاسین ملک، جاوید احمد میر اور مشتاق احمد لون شامل تھے۔اس رپورٹ میں نامزد پانچ دیگر ارکان کیخلاف گواہان کی کمی کے باعث ٹی اے ڈی اے عدالت میں انہیں رہا کردیا گیا تھا ۔
راولپورہ کا مقدمہ تقریباً 34 سال سے ثبوتوں اور شواہد کی عدم موجودگی کے سبب التوا کا شکار رہا۔ مارچ 2020 میں یاسین ملک اور چھ دیگر افراد پر قتل کی سازش، دہشتگردانہ کاروائیاں اور بغاوت کے الزامات عائد کیے گئے۔
وکیلِ حکومت توشار مہتا نے نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کی عدالت میں یاسین ملک کو سزائے موت دیے جانے کی درخواست دائر کی۔ "یاسین ملک پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈز کو رہا کروانے کے لیے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی کو اغوا کیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈز ڈیوڈ ہیڈلی اور طاہاور رانا نے اس بات کا اعتراف بہت پہلے کرلیا تھا۔
گواہ راجیشور سنگھ کے مطابق 25 جنوری 1990 کو راولپورہ کے قریب فضائیہ کے اہلکاروں پر ایک شخص نے اپنے "پھیرن” سے بندوق نکال کر ان پر فائرنگ شروع کر دی۔34 سال بعد راجیشور سنگھ نے اپنا بیان تبدیل ہوئے کہا کہ وہ فضائیہ کے اہلکاروں کے ساتھ بس کا انتظار کررہا تھا جب یاسین ملک نے ان پر فائرنگ شروع کی۔
دوسری گواہ نرمَل کھنّہ کے مطابق اسکا گھر جائے وقوعہ سے صرف 50 گز دور تھا۔ نرمَل کھنّہ کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ پر میں نے اپنے شوہر کو خون میں لت پت دیکھا اور انکے پیٹ پر گولی لگی تھی۔فلائٹ لیفٹیننٹ بی آر شرما کے مطابق وہ راجیشور سنگھ کے ساتھ تھا جب یاسین ملک نے ان پر حملہ کیا۔
ان چشم دید گواہوں کے بیانات میں گہرے تضادات ہیں کیونکہ سی بی آئی کی رپورٹ کے مطابق تین حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جبکہ راجیشور سنگھ کے مطابق حملہ آور پیدل تھا ۔نرمَل کھنہ نے فلائٹ لیفٹیننٹ شرما کے بیان پر ہی انحصار کرتے ہوئے اپنا بیان ریکارڈ کروایا مگر اس سارے واقعے کے چشم دید گواہ فلائٹ لیفٹیننٹ شرما کو کیوں شامل تفتیش نہیں کیا گیا؟
درحقیقت صرف دو ہی شرما کے نام سے آفیسرز کا ریکارڈ بھارتی رکھشک  کے ڈیٹا بیس میں نظر آیا،ان میں سے ایک 29 اپریل 1973 کو انتقال کرگیا تھا اور دوسرا 2016 میں انتقال کر چکا ہے ۔
روی کھنّہ کا نام قومی جنگی یادگار میں شامل نہیں جبکہ اسے ہیرو کی طرح دفن کیا گیا تھا۔
یاسین ملک کی راولپورہ میں شناخت کو بے وقعت سمجھنے کے لیے دو اور وجوہات ہیں۔پہلی وجہ یہ ہے کہ فائرنگ صبح 7 بج کر 30منٹ پر ہوئی جبکہ سری نگر میں سورج 7بج کر 32منٹ پر طلوع ہوا لہذا فائرنگ کے وقت اندھیرا تھا۔دوم راجیشور سنگھ کا فاصلہ یاسین ملک سے قابل تشویش ہے۔سری نگر میں جنوری کے مہینے میں درجہ حرارت منفی 3 سے منفی 5 ڈگری سیلسیس کے درمیان ہوتا ہے،اگر یاسین ملک کا چہرہ دیکھا گیا تو اسے مفلر کسی وجہ سے ہٹانا پڑا ہوگامگر حقیقتاً اپنی شناخت کو چھپانے کیلئے قاتل اپنا چہرہ چھپا کر رکھتے ہیں ۔
 راجیشور سنگھ اور بی آر شرما کے بیانات میں تضاد اس جھوٹے مقدمے کے پس پردہ مودی سرکار کے مذموم عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اس مقدمے میں یاسین ملک کی شناخت کا طریقہ کار بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ این آئی اے نے بصری شناخت کے تقاضوں کو پس پردہ ڈال کر محض گواہوں کو یاسین ملک کی تصاویر دکھا کر بیانات ریکارڈ کیے۔ان میں سے کوئی بھی طریقہ عدالت میں ایک لمحے کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔
مودی سرکار کے ناقدین نے کہا ہے کہ یہ عمل مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ آزادی کو دبانے کی سازش ہے اور اِس سے عدالت کی غیرجانبداری پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
یاسین ملک کے مقدمے میں عدم شفافیت اور طریقہ کار کی خامیوں پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں پہلے سے ہی شدید تنقید کرتی آئی ہیں۔
بھارتی میڈیا دی وائر کی رپورٹ میں مودی حکومت پر سیاسی اختلافات کیلئے عدالت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ہےمگر اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی قوتیں آخر کب تک کشمیریوں کیخلاف غیر انسانی کاروائیوں پر خاموش رہیں گی؟

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے