ٹیک کمپنیاں اے آئی تربیت کے لیے پرانی کتابیں سکین کر کے اصل نسخے تلف کرنے لگیں
ویب ڈیسک: برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز کی تربیت کے لیے بڑی تعداد میں پرانی کتابیں خرید کر انہیں تیز رفتار مشینوں سے سکین کر رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق کتابوں کا مواد ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنے کے بعد بعض صورتوں میں ان کے اصل نسخے تلف بھی کر دیے جاتے ہیں، جس پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق اس منصوبے کا آغاز دو سال قبل ہوا، جب فروری 2024 میں ایک بڑی اے آئی کمپنی نے دنیا بھر سے زیادہ سے زیادہ کتابیں جمع کرنے کے لیے ایک خصوصی ماہر کو مقرر کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس عمل میں نایاب اور تاریخی کتابیں بھی شامل ہیں تو یہ انسانی علم اور ثقافتی ورثے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اے آئی کمپنیاں خاص طور پر 2022 سے پہلے شائع ہونے والی کتابوں میں دلچسپی رکھتی ہیں، کیونکہ ان میں موجود مواد زیادہ تر انسانوں کی تحریر پر مشتمل ہے، جو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں