جسمانی چربی صرف وزن نہیں بڑھاتی، صحت کے لیے بھی انتہائی اہم قرار
ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ جسم میں موجود چربی (فیٹ ٹشو) صرف اضافی وزن کا سبب نہیں بنتی بلکہ یہ ایک اہم عضو ہے، جو توانائی ذخیرہ کرنے، ہارمونز بنانے اور جسم کے میٹابولزم کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جہاں جسم میں ضرورت سے زیادہ چربی ذیابیطس، دل کے امراض اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے، وہیں غیر معمولی طور پر چربی کی کمی بھی صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
تحقیق میں فیملیل پارشل لیپوڈسٹروفی ٹائپ 2 (FPLD2) نامی نایاب جینیاتی بیماری کا جائزہ لیا گیا، جس میں جسم کے مخصوص حصوں سے چربی ختم ہو جاتی ہے یا اس کی تقسیم متاثر ہوتی ہے، جس کے باعث مریض ذیابیطس اور دیگر میٹابولک امراض کا شکار ہو سکتے ہیں۔
امریکی اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر ایلف اورال اور ان کی ٹیم نے دریافت کیا کہ اس بیماری میں چربی کے خلیات کے اندر شدید خرابی پیدا ہو جاتی ہے، جو جسم کے میٹابولزم کو متاثر کرتی ہے۔
محققین نے چوہوں پر تجربات کے دوران لامن اے/سی (Lamin A/C) جین کو چربی کے خلیات میں غیر فعال کر کے بیماری کے اثرات کا مطالعہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق نہ صرف اس نایاب بیماری کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ مستقبل میں ذیابیطس اور دیگر میٹابولک امراض کے مؤثر علاج کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔
اردو ٹیگز (بغیر #):
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں