نئے صوبوں کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، محسن نقوی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس سے متعلق وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، اس معاملے کا فیصلہ عوام نے آئین کے مطابق کرنا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ محسن نقوی کی ذاتی رائے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، تاہم پاکستان کے استحکام اور سکیورٹی کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط موجود ہیں، مگر ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق اسمگلنگ، منشیات، افغان مہاجرین، مدارس کی رجسٹریشن اور دیگر اہم معاملات بھی بہتر طرزِ حکمرانی سے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً 7 کروڑ تھی اور صوبے چار تھے، آج آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے لیکن صوبوں کی تعداد وہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں گڈ گورننس کو بہتر بنانے کے لیے مختلف انتظامی ماڈلز پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ صرف عوام اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں