پی ٹی آئی کا جلسہ علی امین گنڈا پور کے اہم اعلان کے بغیر ختم
تحریک انصاف کا لاہور جلسہ عام کا وقت ختم ہوتے ہی جلسہ منتظمین نے ساؤنڈ سسٹم اور لائٹیں بند کر دیں اور یوں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا قافلہ لاہورمیں داخل ہونے کے باوجود جلسہ گاہ نہ پہنچ سکا، شرکا جلسہ علی امین گنڈاپور کا اہم اعلان سنے بغیر ہی مایوس گھروں کو لوٹ گئے۔
ہفتہ کے روز لاہور رنگ روڈ کاہنہ کے مقام پر پاکستان تحریک انصاف کے جلسہ عام کا وقت جونہی ختم ہوا تو پنجاب پولیس نے جلسہ کے منتظمین کو جلسہ کے لیے طے کیے گئے ایس او پیز سے متعلق یاد دہانی کروائی، جس پر پی ٹی آئی جلسہ کے منتظمین نے جلسہ گاہ کا ساؤنڈ سسٹم بند کر دیا اور لائٹیں بھی بند کر دیں، پی ٹی آئی کے تمام قائدین بھی کنٹینر سے نیچے اتر گئے۔
پاکستان تحریک انصاف کی جلسہ گاہ میں لائٹس کا کوئی متبادل انتظام بھی موجود نہیں تھا، جلسہ گاہ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اہم اعلان کرنا تھا تاہم لائٹیں آف ہونے کی وجہ سے جلسہ کے شرکا گھروں کو لوٹ گئے، دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا قافلہ بھی لاہور میں داخل ہو گیا، لیکن وہ جلسہ گاہ میں نہیں پہنچ سکے۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشروط اجازت کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے گی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مقدمات درج ہوں گے، جلسے کی اجازت سہ پہر 3 بجے سے شام 6 تک تھی۔ دوسری جانب امن امان کے پیش نظر راستے بند کر دیے گئے اور لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا قافلہ جلسہ گاہ تو نہ پہنچ سکا مگر انہوں نے رنگ روڈ پر موجود کارکنوں کو سلام کیا اور مختصر خطاب کرتے ہوئے واپس پشاور روانہ ہوگئے، جب علی امین گنڈا پور کاہنہ رنگ روڑ پر پہچے تو پی ٹی آئی کی قیادت وہاں سے جا چکی تھی ۔
رنگ روڈ پر کارکنوں سے مختصر خطاب میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’میں آگیا ہوں میری حاضری قبول کی جائے، ساری رکاوٹیں توڑ کر آپ تک پہنچا ہوں کیا آپ خوش ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بہت جلد میں عمران خان کو رہا کراؤں گا، اب آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے لاہور جلسہ میں عمران خان کی پرانی تقریر نشر کر دی گئی، جس میں عمران خان نے جلسہ کے شرکا سے پھر حلف لیا کہ وہ ملک میں آئین کی پاسداری، اور آئین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ لاہور کے لوگو! میں نے اتنے عوام اس سے قبل نہیں دیکھے، ہم نے غلامی قبول کرنی ہے نہ ایمپورٹڈ حکومت کو قبول کرنا ہے۔
وہ اپنی پرانی تقریر میں کہتے ہیں کہ میں غلاموں اور پاکستان کے کرپٹ ترین لوگوں کو کبھی بھی قبول نہیں کروں گا، جب پاکستان بن رہا تھا تو ایک نعرہ لگایا گیا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا، تیرا میرا رشتہ کیا۔
پھر شرکا سے حلف لیا گیا کہ وہ اپنے بچوں، اپنی نسل کے لیے حلف اٹھا ئیں کہ ہم حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم پاکستان کے آئین کی ہمیشہ پاسداری کریں گے، پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ کریں گے، ہم کبھی بھی اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، پاکستان زندہ باد۔ تقریر کے بعد پی ٹی آئی کے اسٹیج سے اعلان کیا گیا کہ ہم سب دعا گو ہیں کہ عمران خان جلد رہا ہو کر ہمارے درمیان ہوں۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) بیرسٹرگوہر خان نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں این او سی نہیں دیا جاتا، آج ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آزاد عدلیہ کے لیے کوشش کریں گے۔ پاکستان میں جمہوریت کے سوا کچھ نہیں چلے گا، ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہم نے ایک دوسرے کے راستے بہت بند کیے، اب مزید راستے بند نہ کرو، خدا راہ راستہ نکالو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔
عوام کو عوام کے ساتھ مت لڑاؤ، اداروں کو اداروں کے ساتھ نہ لڑاؤ، خدا را! عوام کی آواز کو دیکھو، پاکستان کے عوام تہیہ کر بیٹھے ہیں کہ آزاد عدلیہ ہو گی، آزاد عدلیہ کے سوا کچھ قبول نہیں ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں