اردن کا شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملہ
اردن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے شام میں کارروائیاں کرتے ہوئے داعش کے 20 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا، جبکہ تنظیم کا ایک بڑا اسلحہ ڈپو بھی تباہ کردیا گیا۔ اردنی حکومت کے مطابق یہ حملے پیر کے روز کیے گئے، جن کا مقصد چرچ پر ہونے والے مہلک حملے کا جواب دینا تھا۔اردن کے حکومتی ترجمان محمد المومنی نے منگل کو بتایا کہ ابتدائی نتائج کے مطابق کارروائیوں میں داعش کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔ ان کے بقول، ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کی تعداد 20 سے زیادہ بتائی جارہی ہے، جبکہ تنظیم کے اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ بھی تباہ کردیا گیا ہے۔اردن کی جانب سے یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب چرچ پر حملے کے بعد ملک میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد اردنی حکام نے تین مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔اردنی حکومت نے شام میں کارروائیوں کو چرچ پر حملے کے ردعمل سے جوڑا ہے، تاہم جاری کردہ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملوں میں کون سے طیارے یا ہتھیار استعمال کیے گئے اور شام میں کن مخصوص مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔داعش کے جنگجوؤں کی ہلاکتوں اور اسلحہ ڈپو کی تباہی سے متعلق تفصیلات فی الحال اردنی حکام کے بیان پر مبنی ہیں، جبکہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں