ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کا آٹھواں سربراہی اجلاس آج ہوگا

ماسکو: روس کے دارالحکومت ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (جی ای سی ایف) کا آٹھواں سربراہی اجلاس آج 27 اکتوبر کو منعقد ہو رہا ہے، جس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور دیگر ممالک کے سربراہان و اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔کریملن کے مطابق سربراہی اجلاس ماسکو کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہوگا، جہاں عالمی گیس مارکیٹ کی صورت حال، توانائی کی سلامتی، قدرتی گیس کی قیمتوں میں استحکام، بین الاقوامی تجارتی پابندیوں اور گیس پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق صدر پوتن اجلاس کے مرکزی سیشن سے افتتاحی خطاب کریں گے۔ وہ عالمی اقتصادی ترقی میں قدرتی گیس کی اہمیت، گیس کی صنعت کو درپیش جغرافیائی و سیاسی چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے روس کی ترجیحات بیان کریں گے۔صدر پوتن کے خطاب کے بعد تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فلپ مشیلبیلا اور شریک ممالک کے وفود کے سربراہان بھی خطاب کریں گے۔ اجلاس میں تنظیم کے مبصر ممالک آذربائیجان، عراق، ملائیشیا، انگولا، موزمبیق اور سینیگال کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔کریملن کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، استوائی گنی کے صدر تیودورو اوبیانگ نگیما مباسوگو، لیبیا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین محمد المنفی اور موزمبیق کے صدر ڈینیئل چاپو اعلیٰ سطح پر اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گی، جبکہ الجزائر کی نمائندگی وزیراعظم کریں گے۔روسی حکام کے مطابق صدر پوتن سربراہی اجلاس کے موقع پر متعدد غیر ملکی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں باہمی تعاون اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم میں روس، ایران، قطر، الجزائر، متحدہ عرب امارات، مصر، لیبیا، نائیجیریا، وینزویلا، بولیویا، استوائی گنی اور ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو سمیت 12 مستقل رکن ممالک شامل ہیں۔تنظیم کے رکن ممالک کے پاس دنیا کے قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر کا تقریباً 70 فیصد حصہ موجود ہے، جبکہ عالمی گیس کی پیداوار میں ان کا حصہ 38 فیصد اور عالمی گیس برآمدات میں تقریباً 42 فیصد ہے۔ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی عالمی برآمدات میں بھی ان ممالک کا حصہ تقریباً 47 فیصد بتایا جاتا ہے۔روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق عالمی توانائی کی صنعت کو اس وقت جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، تجارتی پابندیوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات اور سرمایہ کاری میں رکاوٹوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماسکو سربراہی اجلاس گیس برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ روس توانائی کے وسائل اور ٹیکنالوجی کے آزادانہ تبادلے میں غیر ضروری رکاوٹوں کے خاتمے، گیس کی اہم تنصیبات کے تحفظ اور تنظیم کے بین الاقوامی روابط بڑھانے کو اہمیت دیتا ہے۔سربراہی اجلاس کے اختتام پر ماسکو اعلامیہ منظور کیے جانے کا منصوبہ ہے، جس میں قدرتی گیس کی قابل اعتماد فراہمی، عالمی توانائی کی سلامتی، تجارتی راستوں میں تنوع، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، ماحولیاتی اثرات میں کمی اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ محدود کرنے کے لیے باہمی تعاون پر زور دیا جائے گا۔اس سے قبل 26 اکتوبر کو ماسکو میں تنظیم کا 28واں وزارتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں رکن ممالک کے نمائندوں نے عالمی گیس مارکیٹ، توانائی کی سلامتی اور گیس پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ایران کے قائم مقام وزیر تیل حمید بوورد نے اجلاس کے موقع پر روس اور ایران کے درمیان قدرتی گیس کے تبادلے، توانائی کے مشترکہ منصوبوں اور گیس کی تنصیبات کے تحفظ سے متعلق تعاون کو اہم قرار دیا۔ماسکو میں ہونے والا یہ آٹھواں سربراہی اجلاس تنظیم کی تاریخ میں روس کی میزبانی میں منعقد ہونے والا دوسرا سربراہی اجلاس ہے۔ اس سے قبل روس نے 2013 میں تنظیم کے دوسرے سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے