سینیٹ نے پاسپورٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا

اسلام آباد: سینیٹ نے پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں ترمیم کے لیے پاسپورٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ اجلاس میں سرکاری افسران کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی سہولت ختم کرنے، ارکان پارلیمنٹ کو پاسپورٹ کے اجرا کے طریقہ کار اور سابق سرکاری افسران کے بچوں کے پاسپورٹس واپس لینے سمیت مختلف امور پر تفصیلی بحث کی گئی۔سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینیٹر عبدالقادر نے پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا۔ ڈپٹی چیئرمین نے بل پر ووٹنگ کرائی، جس کے بعد ایوان نے اسے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔بحث کے دوران سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ گریڈ 21 کے سرکاری افسران کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ منتخب ارکان قومی اسمبلی کو بھی یہ سہولت حاصل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینیٹرز کے لیے بھی یہی اصول اپنایا جائے یا پھر سرکاری ملازمین کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ دینے کی سہولت ختم کی جائے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ارکان کے لیے ایک مرتبہ حلف اٹھانا مدت کا آغاز تصور کیا جاتا ہے، جبکہ سینیٹرز کو چھ سالہ مدت پوری کرنے کے بعد آفیشل پاسپورٹ ملتا ہے۔ ان کے مطابق وزیر داخلہ بھی سینیٹرز کو قومی اسمبلی کے ارکان کی طرح پاسپورٹ دینے کی تجویز کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گریڈ 21 اور 22 کے ریٹائرڈ سرکاری افسران کے بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ نہیں ملنے چاہئیں اور اس معاملے کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سابق ارکان پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ دینے کی وہ مخالفت کرتے ہیں اور اگر سرکاری افسران کے بچوں کو یہ سہولت حاصل ہے تو اسے روکنے کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق بلیو پاسپورٹس کی تعداد براہ راست پاسپورٹ کی بین الاقوامی درجہ بندی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب پاکستان دوسرے ممالک کے ساتھ ویزا فری داخلے کے معاملے پر بات کرتا ہے تو وہاں بلیو پاسپورٹس کی تعداد سے متعلق سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔طلال چوہدری نے بتایا کہ پاکستان میں پہلے 75 ہزار بلیو پاسپورٹس تھے اور حکومت ان کی تعداد پہلے ہی کم کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق سیکریٹریز کے بچوں سے بھی بلیو پاسپورٹ واپس لینے کے لیے وزیر قانون بل لارہے ہیں۔ ان کے مطابق 30 ہزار بلیو پاسپورٹس واپس لیے جاچکے ہیں، جن میں سے کوئی بھی کسی پارلیمنٹیرین کا نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سابق بیوروکریٹس کے پاسپورٹس قواعد کے خلاف جاری ہوئے ہیں تو اس معاملے پر بل لایا جائے، حکومت اس کی حمایت کرے گی۔سینیٹر عابد شیر علی نے ارکان پارلیمنٹ کے لیے وزارت داخلہ سے این او سی لینے کی شرط پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بطور سینیٹر بلیو پاسپورٹ بنوانے کے لیے این او سی کا تقاضا ان کی تضحیک اور حق تلفی کے مترادف ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ منتخب نمائندوں کو پاسپورٹ کے حصول کے لیے وزارت داخلہ سے اجازت کیوں لینا پڑتی ہے۔سینیٹر ناصر بٹ نے بھی ریٹائرڈ سرکاری افسران اور ان کے بچوں کے بلیو پاسپورٹس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 78 ہزار بلیو پاسپورٹس موجود ہیں اور ریٹائرڈ افسران کے بچوں کے پاس بھی یہ پاسپورٹس ہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو آفیشل کے بجائے ڈپلومیٹک پاسپورٹ ملنا چاہیے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کے لیے وزارت داخلہ سے این او سی لینے کے طریقہ کار پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ پارلیمانی ارکان کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں، تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد یہ سہولت برقرار نہیں رہتی۔طلال چوہدری نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ کے حصول کے لیے کسی سے این او سی نہیں مانگا گیا اور پاسپورٹ کی درخواست دینے والے ہر شخص کی اعلیٰ سطح پر تصدیق کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق قواعد و ضوابط کے تحت ارکان پارلیمنٹ کو دو سال کے لیے پاسپورٹ جاری کیا جاسکتا ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے بھی سوال اٹھایا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ کیوں نہیں دیا جاتا۔ دوسری جانب سینیٹر عامر چشتی نے بتایا کہ ایک سینیٹر کی بیٹی کا پاسپورٹ نہیں بن رہا، جبکہ سینیٹر زرقا کا پاسپورٹ بھی چھ ماہ سے زیر التوا ہے۔عابد شیر علی نے دعویٰ کیا کہ داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری داخلہ نے ارکان پارلیمنٹ کو این او سی کی ضرورت سے آگاہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ وزیر کو جوابدہ ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ ڈی جی پاسپورٹ کے پاس گئے تو انہیں بتایا گیا کہ وزارت داخلہ کی ہدایت ہے کہ کسی کو درخواست کے سلسلے میں سہولت فراہم نہ کی جائے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس پر کہا کہ تمام ارکان عوام کی خدمت کے لیے ایوان میں موجود ہیں اور انہیں بھی بعض ارکان سے این او سی کے معاملے پر شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو بھی این او سی کی ضرورت نہیں ہے۔سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ اگر 30 ہزار بلیو پاسپورٹس جاری کیے گئے تھے تو وہ متعلقہ محکمے نے جاری کیے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس دور میں یہ پاسپورٹس جاری ہوئے، اس کی تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی نااہل شخص کو پاسپورٹ جاری کیا گیا تو کم از کم ایک ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی جائے۔اجلاس کے اختتام پر سینیٹ نے پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں ترمیم کے لیے پاسپورٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ دریں اثنا، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی بل واپس لے لیا گیا۔اردو مین ٹیگز

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے