نوبیل امن انعام 2026 کا اعلان، ٹرمپ کی خواہش پھر ادھوری رہ گئی
سویڈن: نوبیل امن انعام 2026 کے لیے جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی وکیل ناوانیتھم ناوی پلے کو منتخب کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بار بھی یہ اعزاز حاصل نہیں کر سکے۔نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوانیتھم ناوی پلے کو امن اور عالمی قانون کے فروغ کے لیے خدمات انجام دینے پر نوبیل امن انعام دیا جا رہا ہے۔ وہ 1941 میں جنوبی افریقا کے شہر ڈربن میں پیدا ہوئیں اور بھارتی نژاد خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ناوی پلے نے جنوبی افریقا میں نسلی امتیاز کے دور میں زندگی گزاری۔ وہ ملک کی ان ابتدائی بھارتی نژاد خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف سرگرم کارکنوں کا عدالتوں میں دفاع کیا اور جیلوں میں غیر انسانی حالات کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔جنوبی افریقا میں نسلی امتیاز پر مبنی حکومت کے خاتمے کے بعد ناوی پلے نے روانڈا کے انٹرنیشنل کرمنل ٹربیونل میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے جنسی تشدد کو جنگی جرائم کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔بعد ازاں وہ 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے عہدے پر فائز رہیں۔ حال ہی میں انہیں غزہ اور اسرائیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے قائم اقوام متحدہ کے کمیشن کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا تھا۔نوبیل امن انعام کیوں دیا جاتا ہے؟نوبیل امن انعام ان شخصیات یا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے قوموں کے درمیان بھائی چارے اور تعاون کو فروغ دینے، مسلح افواج میں کمی اور امن کے قیام کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔یہ انعام سویڈن کے معروف صنعت کار اور ڈائنامائٹ کے موجد الفریڈ نوبیل کی وصیت کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے اثاثوں کا بڑا حصہ انعامات کے لیے مختص کیا، جبکہ پہلی مرتبہ نوبیل انعامات 1901 میں تقسیم کیے گئے تھے۔ٹرمپ کی نوبیل انعام حاصل کرنے کی خواہش پوری نہ ہوسکیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ دو برسوں سے نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم اس سال بھی انہیں یہ اعزاز نہیں مل سکا۔رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک کے علاوہ پاکستان کی جانب سے بھی ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا، لیکن 2026 کے لیے یہ اعزاز ناوانیتھم ناوی پلے کے نام رہا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں